مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 335

335 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پر نہیں کیا کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ہماری دشمنی میں خلیفہ وقت تک یہ بات پہنچائی۔فلاں شخص نے فلاں آدمی سے پیسے کھالئے اس کی دعوتیں اڑائیں اور پھر خلیفہ وقت سے یہ بات کہی۔ایک مخرج ہے اس وقت وہ لوگوں کے پاس پہنچتا ہے اور بڑی چاپلوسی سے کہتا ہے کہ میں تو خلیفہ وقت کا عاشق ہوں ،خلیفہ وقت تو بہت ہی بلند مقام رکھتے ہیں۔میں تو معافیوں کی عاجزانہ درخواستیں بھی کر رہا ہوں لیکن معافی نہیں ملتی۔ناظر امور عامہ ایسا ذلیل آدمی ہے کہ وہ راشی ہے وہ فریق ثانی سے دعوتیں اڑا چکا ہے۔فریق ثانی سے پیسے کھا چکا ہے حالانکہ جو مخرج ہے اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ اس کو لوگوں کے پیسے چڑھانے اور دعوتیں کھلانے کی عادت ہے۔میں نے آغا ز خلافت ہی میں عہد یداروں کو اس کے متعلق متنبہ کر دیا تھا کہ آپ نے اس کی کوئی دعوت قبول نہیں کرنی۔اب وہ چونکہ خود اس مرض کا شکار ہے اس لئے دوسروں کے متعلق یا ناظر امور عامہ کے متعلق باتیں کرتا ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ سننے والے سن لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہاں خلیفہ وقت نے ناظر امور عامہ کی بات سن لی ہے اس لئے اس بچارے پر ظلم ہو رہا ہے حالانکہ اس سے اگلا نتیجہ نہیں نکالتے۔جو خلیفہ اتنا بیوقوف اور احمق ہو کہ اس کو معاملہ نہی ہو ہی کوئی نہیں۔جس طرف سے بات سنی اس کو فوراً قبول کر لیا وہ اس لائق کہاں کہ تم اس کی بیعت میں رہو۔اس لئے تمہارے تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تم متقی ہو تو اس کی بیعت سے الگ ہو جاؤ۔لیکن بیعت پر قائم رہتے ہوئے تمہیں تصادم کی اجازت نہیں دی جاسکتی یہ وہ بات ہے جس کے متعلق قرآن کریم کی ایک آیت ہمیں ہمیشہ کے لئے متنبہ کر چکی ہے کہ خبر دار تفاوت کی راہ اختیار نہ کرنا۔تفاوت نام ہے دو موتوں کے ٹکرانے کا ، دوایسی چیزوں کے ٹکرانے کا جو دونوں اپنے منصب سے ہٹ چکی ہوں۔اس لئے اگر ایک کو اپنا منصب نہ چھوڑتے ہوئے دیکھو بھی تو تم اس رو میں بہہ کر اپنا منصب نہ چھوڑ دینا۔اصلاح کے نام پر فتنہ پردازیاں اور ان کا تدارک پس ایسے فتنے تو پیدا ہوتے رہیں گے اور ہمیشہ اصلاح کے نام پر پیدا ہوں گے کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ لَا قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُون ( سورة البقره: 12 ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد برپا نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کی خاطر بات کر رہے ہیں۔نظام جماعت میں فتنہ پیدا ہو رہا ہے اس کے متعلق ہم عوام الناس کی رائے عامہ کو بیدار کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ایسی ایسی خطرناک باتیں پیدا ہو رہی ہیں ان کے متعلق یہ کیوں کہہ دیا أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ