مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 333

333 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اٹھائے بھی تھے تو اب ہم تمہاری مزید باتیں نہیں سنیں گی۔اس کی بجائے کہتی ہیں ہاں ہاں یہ تو فلاں شخص کی وجہ سے یا فلاں اشخاص کی وجہ سے ہو رہا ہے پرائیویٹ سیکرٹری اس کا دوست ہے، افسر حفاظت اس کا دوست ہے، وہ فلاں اس کا دوست ہے، اس کی یک طرفہ باتیں سنتا ہے۔اور مجبور ہو گیا ہے۔اب امر واقعہ یہ ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے دو قسم کے ہو سکتے ہیں یا منافقین یا وہ جو خلیفہ وقت کے او پر حملہ نہیں کرنا چاہتے وہ اپنی طرف سے اس کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں اور بات ایک ہی ہوتی ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو بھی بیان فرما دیا ہے۔نہ صرف یہ فرمایا کہ تم خدا کی کائنات میں کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے بلکہ روحانی کائنات میں جہاں جہاں تفاوت کے احتمالات ہیں ان سب کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہوا ہے۔خودحضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر بھی ایسے حملے ہوئے آپ کے متعلق باتیں کی گئیں کہ هُوَ أُذُن وہ تو مجسم کان ہے یعنی لوگوں کی باتیں سنتا ہے اور مان جاتا ہے اس کے نتیجے میں بعض دوسرے لوگوں کے خلاف فیصلے کر دیتا ہے نعوذ باللہ من ذالک یا ان سے متنفر ہو جاتا ہے اور ان سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔قرآن کریم نے اس کا بہت پیارا جواب دیا ہے فرمایا اذُنُ خَيْرٌ لَّكُمُ کان تو ہے لیکن صرف بھلائی کا کان ہے برائی کا کان نہیں ہے۔جب تمہارے متعلق کسی سے بری باتیں سنتا ہے تو تم پر حسن ظن رکھتا ہے اور یک طرفہ فیصلے نہیں کرتا جب اچھی باتیں سنتا ہے تو قبول کر لیتا ہے کیونکہ وہ تم سے پیار کرتا ہے تمہارے اوپر حسن ظن رکھتا ہے اس لئے کان بے شک کہولیکن خیر کا کان کہو ، بھلائی کا کان کہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں آپ کے سب غلاموں کی یہی کوشش ہونی چاہیے اور ہوتی ہے۔خلفاء وقت کے لئے بھی یہی وہ سنت ہے جس کی وہ عملاً پیروی کرتے ہیں اس لئے یہ بھی جواب کسی نے نہیں دیا کہ اذن خَيْرٌ لَكُمْ تمہارے لئے بھلائی کا کان تو ہو سکتا ہے ہم برائی کے کان کے طور پر اس کو تسلیم نہیں کر سکتے بلکہ اپنی طرف سے یہ دفاع پیش کیا کہ ہاں ہے تو کان لیکن کان بیچارے کا کیا قصور وہ تو اس زبان کا قصور ہے جس نے پاگلوں والی جھوٹی لغو باتیں اس تک پہنچائیں۔فتنہ پردازوں سے بچیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔میں حسن ظنی رکھتا ہوں لجنہ پر اور یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی طرف سے میرا دفاع کیا ہے۔اپنی طرف سے مجھے معذور قرار دیا ہے لیکن منافق بھی تو اسی طرح حملے کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعتماد اٹھانے کے لئے بھی