مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 331

مشعل راه جلد سوم 331 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ہوئے جماعت احمدیہ میں کسی قسم کے بھی تصادم کی صورت پیدا نہ ہو۔مجھے تعجب ہے کہ یہ بات کس طرح اب تک میری نظر سے اوجھل رہی کہ ہماری مجالس عاملہ کو بھی بہت بڑی تربیت کی ضرورت ہے اس سلسلہ میں غور کر رہا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق بعض اور اقدامات میں کروں گا لیکن سر دست ساری جماعت کی تربیت کی ضرورت ہے ، ان کو بتایا جانا چاہیے کہ رخنے کس طرح پیدا ہوتے ہیں۔دراصل کسی نہ کسی قرآنی تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں ہی فساد پیدا ہوتا ہے۔معاملہ نہی کا شرعی اور جماعتی طریق کار چنانچہ دوسری مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ ایک جگہ لجنہ کا ایک اجلاس ہو رہا ہے اور لجنہ کی بڑی اہم تقریب ہو رہی ہے سارے ملک سے ممبرات آئی ہوئی ہیں اس لئے کہ ان کی تربیت کی جائے اور جب ان کی اپنی تربیت کا امتحان ہوتا ہے تو تربیت کے سارے تقاضے یا پرانی تعلیمات کو قطعاً بھلا کر وہ نظام جماعت سے تصادم کی راہ اختیار کر لیتی ہیں۔ایک ایسے ہی موقع پر ایک جگہ ایک لڑکی روتی ہوئی واویلا کرتی ہوئی بلند آواز میں اپنے خاوند کے خلاف اور اس کے باقی رشتہ داروں کے خلاف باتیں کرتی ہوئی لجنہ کی تقریب میں پہنچ جاتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ آپ کے قریب ہی فلاں خاوند نے مجھ پر ظلم کیا مجھے زدوکوب کیا۔مجھے یہ کیا وہ کیا اس کے والدین نے ہمیں یہ کیا اور یہ مظالم کئے اس نے میرے والدین کو یہ کہا۔نظام جماعت کا تقاضا یہ ہے کہ لجنہ اماءاللہ کی عہدیداران فوراً اس کی زبان بندی کریں۔اور اسے کہیں کہ ہوسکتا ہے کہ تم مظلوم ہو لیکن ہم اس مقام پر فائز نہیں ہیں کہ تمہارے ظلم کی یک طرفہ داستان سنیں۔اول تو یک طرفہ داستان سننا ہی انصاف کے تقاضے کے خلاف ہے اگر کوئی سرسری طور پر سنا دیتا ہے مثلاً بعض خطوں میں وہی بات میرے سامنے آجاتی ہے تو پھر سنے والے کا جو سرسری طور پر سن لیتا ہے یا گزرتے ہوئے اس کے کان میں پڑ جاتی ہے، یہ بنیادی فرض ہے کہ یکطرفہ رائے سن کر کوئی نتیجہ اپنے ذہن میں قائم نہ کرے، کوئی بداثر قائم نہ کرے۔لیکن ایک نہیں دو نہیں بار بار وہ منتظمین جولوگوں کی تربیت کے لئے تقریب منعقد کر رہے ہیں وہ عہد یداران یہ رد عمل دکھاتی ہیں کہ نہ وہ قاضی نہ ان کو یہ حق کہ ان معاملات میں فیصلہ کریں بجائے اس کے کہ اس فریق کو جو اپنے منصب سے ہٹ کر ان کے پاس آیا تھا ، اپنے دائرہ اختیار سے ہٹ کر ان کے پاس آیا تھا اس کو سمجھا تیں کہ بلند آواز سے فحشاء کا ذکر کرنا جائز نہیں ہے، غیر محل جگہ میں یہ باتیں کرنا جائز نہیں ہے ، تم فتور پیدا کر رہی ہو۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ تم مظلوم ہو یا ظالم ہولیکن اپنے اس فعل سے