مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 316

316 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جب اس حدیث کو سنتے ہیں۔تو یہ خیال کر لیتے ہیں کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے لیکن اس حدیث میں جو پیغام مخفی ہے اس پیغام کو نہیں سمجھ سکتے۔پیغام یہ ہے کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہواور واقعتا اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو ہمیشہ تمہارا فیض تمہارے ساتھیوں کو پہنچتا رہنا چاہیے۔دنیا کی بھلائی خیر امت ہونے کی بنیاد ہے یہ قانون طبعی ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کا ذکر کرنے والا ہو اور اس کے ساتھی اس سے محروم رہ جائیں یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے فرمایا اے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والو! تم کوبہترین اُمت ہو جو کبھی بنی نوع انسان کے لئے نکالی گئی تھی۔لیکن اخرجت للناس اس لئے بہترین امت ہو کہ تم بنی نوع انسان کو خیر پہنچانے کی خاطر پیدا کی گئی ہو۔اس لئے کہ تمہاری خیر اور تمہاری بھلائی تم تک نہیں ٹھہرتی بلکہ بنی نوع انسان تک آگے پھیلتی چلی جاتی ہے پس اگر تم دنیا کی بھلائی کے کام چھوڑ دو گے تو خیر امۃ نہیں رہوگے اور خیر امۃ ہو تو اس لئے نہیں کہ تم نے ایک رسول کو قبول کر لیا۔بلکہ اس لئے کہ اس رسول کے فیض کے نتیجہ میں تم تمام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے والے بن گئے پس اگر آج یورپ میں بسنے والا احمدی اس بنیادی تعریف پر پورا اترتا ہے۔اس قرآن کی آیت کے موضوع کو پیش نظر رکھتا ہے۔اس حدیث کے مفہوم کو پیش نظر رکھتا ہے جو میں نے ابھی آپ کو سنائی تو یہ ممکن ہی نہیں کہ افاضہ خیر کے بغیر زندہ رہ سکے۔یہ ممکن ہی نہیں ہے۔کہ وہ لوگوں کی بھلائی کے تصور میں زندگی گزارے بغیر اطمینان پاسکے اس لئے آپ کا مقصدِ اعلیٰ جو قرآن کریم نے بیان فرمایا۔آپ کی زندگی کا قبلہ وکعبہ جو خدا نے مقرر فرمایا۔وہ یہی ہے کہ آپ بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں خواہ وہ آپ کی مانیں یا نہ مانیں خواہ وہ آپ سے حسنِ سلوک کریں یا نہ کریں آپ ان کی بھلائی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں ایسا کریں تو کافروں پر بھی خدا کی رحمت کی بارشیں برستی ہیں۔اس کو گالیاں دینے والے بھی اس کے قانون قدرت سے فیض پا رہے ہیں ان کی فصلیں بھی پھل لگاتی ہیں۔ان کی محنتیں بھی میٹھے ثمرات پیدا کرتی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی رحمت کوئی تفریق نہیں کرتی کہ کون لوگ دہر یہ ہیں۔اور کون غیر دہر یہ جہاں تک اس کی عام رحمت کا تعلق ہے وہ سب کے لئے یکساں جاری ہے سب کے لئے فیض رساں ہے۔پس یہ وہ ادنی تعریف ہے مومن کی جو مومن کی ذات میں جاری ہونی ضروری ہے کہ اس کے بغیر مومن کی آواز میں قوت پیدا نہیں ہوتی۔