مشعل راہ جلد سوم — Page 280
مشعل راه جلد سوم 280 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی Give and Take کہا جاتا ہے۔اسے محو ظ ر کھتے ہوئے اگر آپ حکمت کے ساتھ بالغ نظری کے ساتھ دونوں سوسائٹیوں کی بری باتیں چھوڑ دیں اور دونوں سوسائٹیوں کی اچھی باتیں اختیار کرلیں اور ( دین حق ) کے تمدن کی روح کو غالب رکھیں تو اس پہلو سے جو بھی تمدن دنیا میں احمدی تمدن کے نام پر پیدا ہوگا اس میں ایک امتزاج پایا جائے گا۔دوسرے دینی تمدن کے پہلو کے لحاظ سے ایک عالمی قدر مشترک پائی جائے گی اور قدر مشترک ہی ملت واحدہ بنانے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ایک بھاری حصہ تمدن کا ایسا ہے جو مذہب سے متاثر ہوا ہوتا ہے۔اس حصہ کی حفاظت کرنا اور اسے نکھار کر دنیا کے سامنے پیش کرنا یہ وقت کی نہایت ہی اہم ضرورت ہے جس کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے ورنہ جیسا کہ یہاں گذشتہ تجربہ نے بتایا کہ محض اس توجہ کے فقدان کے نتیجہ میں بہت سے خاندان ایک رستہ سے آئے اور دوسرے رستہ سے چلے گئے۔محض اس توجہ کے فقدان کے نتیجہ میں جو مخلص تھے ان کے ایمان داغدار ہونے لگے۔ان کے دل افسردہ ہونے لگے وہ مایوس ہونے شروع ہوئے کہ ہم کس ویرانہ میں چلے آئے ہیں، جن لوگوں نے ہمیں خدا کی طرف بلایا تھا وہ خدا کا نمائندہ بن کر ہمیں چھاتی سے لگانے والے ثابت نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اس دنیا میں ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔یہ کہہ کر کہ تم اپنے تمدن سے باغی ہو جاؤ اور ہم تمہارے لئے کوئی تمدن پیش نہیں کر سکتے ، تم اپنے تعلقات تو ڑلو ہم تمہارے لئے کوئی متبادل مہیا نہیں کر سکتے ، تم اردو سیکھو لیکن ہم انگریزی نہیں سیکھیں گے، ہم جب بات کریں گے پنجابی یا اردو میں کریں گے، خواہ تم بیٹھے رہو ہم تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں گے اور جب بھی ہم آپس میں ملیں گے تو تم سرکتے سرکتے ایک طرف کو نہ میں لگ جایا کرو۔ہم اپنی اجتماعی شکل میں آپس میں خوش گپیوں میں مشغول ہو جایا کریں گے۔اگر آپ یہ پیغام اسی طرح دیتے رہے تو ہر جگہ جتنے سفر آپ طے کریں گے وہ سارے فاصلے اپنے ہر قدم کے ساتھ منقطع بھی کرتے چلے جائیں گے۔آپ زمینیں سر نہیں کریں گے بلکہ سر شدہ زمینیں بھی دوسروں کے سپر د کر تے چلے جائیں گے۔آپ کا سفر ایک ایسا سفر ہوگا۔جس میں آپ کی زمین وہی ہوگی جہاں آپ کھڑے ہوں گے۔آپ کی حالت یہ ہوگی کہ آپ قدم ماررہے ہیں اور گزشتہ زمینیں فتح کر کے غیروں کے سپرد کرتے چلے جاتے ہیں یہ تو کوئی ترقی کا طریق نہیں ہے، یہ تو کوئی زندہ رہنے کا فیشن نہیں ہے اس لئے جیسا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو الہام ہوا۔زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ( تذکرہ صفحہ 509 طبع سوم اکتوبر 1969ء) آپ کبھی زندگی کے فیشن سے دور نہ جائیں۔زندہ رہنے کے اسلوب سمجھیں ،سوچیں اور ان اسالیب