مشعل راہ جلد سوم — Page 224
224 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جب عوام الناس کسی کے مرتبے بڑھانے شروع کر دیتے ہیں۔بعضوں کی زندگی میں شروع کر دیتے ہیں اور بعضوں کی موت کے بعد شروع کر دیتے ہیں۔یہ تاریخ کا اتنا دردناک سبق ہے اور آپ اس کو بھول جاتے ہیں اس لئے اپنی فکر کریں اور حکمت کے ساتھ بات کیا کریں۔جذبات کو الگ رکھیں عقل اور تقویٰ کے ساتھ جذبات کو قابو میں رکھیں۔اگر چہ عقل بھی جذبات پر حاوی ہے لیکن سب سے بڑی چیز جو جذبات پر حاوی ہوتی ہے وہ تقویٰ ہے۔پس جہاں تک آپ کی محبت اور خلوص کے جذبات کے اظہار کا تعلق ہے وہ مجھے قبول ہیں ان کے نتیجہ میں میرے دل میں بھی محبت کی جوابی لہریں اٹھ رہی ہیں میں آپ کو ان معنوں میں نہیں ڈانٹ رہا کہ میں آپ سے ناراض ہوں۔آپ کو سمجھانا میرے فرائض میں شامل ہے اس لئے دعا کریں کہ ذوالقرنین کی پیشگوئی جو دراصل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے تعلق رکھتی ہے اس کے کچھ خوشکن پہلو اللہ تعالیٰ ہمارے ذریعہ بھی پورے فرما دے۔میرے ذریعہ بھی اور آپ کے ذریعہ بھی لیکن جب وہ پورے ہوں گے تو دنیا کو نظر آئیں گے پھر آپ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ یہ واقعہ ہو گیا ہے۔دنیا دیکھے گی۔آپ کے دل حمد باری سے بھر جائیں گے اور آپ کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہے گی۔ذوالقرنین کی پیشگوئی اور اس کا مظہر جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیوں دماغ میں یہ باتیں آنی شروع ہوئیں میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ جی کی وہ ڈیٹ لائن ہے جو مطلع الشمس بنتی ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ وہ مطلع الشمس ہے لیکن وہ ظاہری معنوں میں مطلع الشمس ہے وہاں تک پہنچ کر اس لحاظ سے تو ہمارا دل ضرور ایمان سے بھر گیا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ خوشخبری دی تھی کہ زمین کے کناروں تک تمہارا پیغام پہنچاؤں گا اور مشرق تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کے پہنچنے سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ذوالقرنین کی پیشگوئی کا ایک حصہ پورا ہو گیا اور معنوی طور پر احمدیت کی صداقت کے لئے پورا ہوا ہے۔اس صورت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ذوالقرنین کے مظہر بنیں گے مگر وہ ذوالقرنین نہیں جو پرانا بادشاہ بیان کیا جاتا ہے بلکہ ذوالقرنین ان معنوں میں کہ یہ پیشگوئی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اور آپ کے دو ادوار کے لئے تھی۔آپ کو دو ادوار نصیب ہوئے۔آپ دو قرنوں کے مالک ہیں۔آپ کے ایک دور کے مظہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں تو ان معنوں میں یہ درست ہے کہ