مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 219

مشعل راه جلد سوم 219 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:- اظہار تشکر کا مومنانہ طریق اس موقع پر کھانے کے بعد سب سے پہلے تلاوت قرآن کریم ہوئی جو محترم حافظ مظفر احمد صاحب نے کی۔تلاوت کے لئے انہوں نے سورۃ کہف کے گیارھویں رکوع کا انتخاب کیا جو يَسْتَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ سے شروع ہوتا ہے۔تلاوت کے بعد مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب نے سپاسنامہ پیش کرنا تھا۔اس کے متعلق حضور نے فرمایا:- ”سپاسنامہ تو مناسب نہیں ہے کہ خواہ مخواہ بیٹھ کر میری تعریف شروع کر دیں۔نعوذ باللہ من ذالک۔یہ فضول رسم ہے۔اگر ویسے سفر سے میری واپسی پر اللہ تعالی کے شکر کے اظہار کے طور پر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو پھر بے شک کہیں۔سپاسنامے پیش کرنے کی رسم کو توڑیں۔اس بات کو ختم کریں۔یہ فضول چیز ہے۔اس سے بچیں۔ہاں اس موقع پر دعائیہ کلمات کہہ دیئے جائیں تو اچھی بات ہے لیکن لمبے چوڑے سپاسنامے پیش کرنے سے پھر آہستہ آہستہ آپ غلط راستوں پر چل پڑیں گے۔ایک وقت تک ہو گیا اگر ہوا ہے۔بات حد کے اندر رہے تو ٹھیک رہتی ہے لیکن جتنا آپ دور نبوت سے دور جاتے ہیں اتنا احتیاط زیادہ کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ چیزیں اگر شروع میں معصومیت میں بھی کی گئی ہوں تو آگے جا کر پھر ان سے بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے پھر خواہ مخواہ زمین و آسمان کے قلابے ملنے شروع ہو جاتے ہیں اس لئے میں ان چیزوں کو پسند نہیں کرتا۔اب آپ نے کچھ کہنا ہے تو وہ جو مبالغہ آمیزیاں ہیں ان کو چھوڑ کر آپ بے شک کہیں۔اگر اس میں