مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 194

194 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک کی ان آزاد سوسائٹیوں میں بچوں پر اتنا ظلم کیا جانے لگا ہے کہ اس کے نتیجہ میں وہ نفسیاتی مریض بن کر بڑے ہوتے ہیں اور ایک نہیں، دو نہیں بلکہ ایسے بچے لکھوکھہا کی تعداد میں ہیں جن کی زندگی سے انہوں نے ساری لذتیں چھین لی ہیں اور وہ بڑے ہو کر یا پاگل خانوں میں پہنچ جاتے ہیں یا ایسی زندگی بسر کرتے ہیں جس میں لذت یابی کی خاصیت ہی باقی نہیں رہتی۔گندی تحریکات اور ان کا انسداد ان سارے امور پر نظر کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ان گندی اور غلط تحریکات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے بڑوں کی تقریروں اور اُن کا تصنیف کردہ لڑ پچر کافی نہیں ہے۔بلکہ ہمیں ایک مقابل کی تحریک چلانی چاہیے جو بچوں کی طرف سے جاری ہو اور ہمارے بچوں میں ان چیزوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت پیدا کی جائے اور اس کے لئے اگر چہ بڑے پروگرام بنا ئیں اور مضامین لکھ کر بچوں کی مدد کریں لیکن اس میں زیادہ تر ہمارے بچے حصہ لیں۔مثلاً جب ہم بچوں کو نماز پڑھانے کا طریق بتاتے ہیں یا بچوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کے قصے سناتے ہیں یا بچوں کو بتاتے ہیں کہ اس طرح پرانے زمانوں میں یا اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں کس طرح بچے چھوٹی عمر میں ہی خدا والے بن گئے تھے۔تو یہ وہ باتیں ہیں جن کو بجائے اس کے کہ کوئی بڑا ان کو سُنائے بچوں کے پروگرام بنائے جائیں اور ان کی وڈیو ریکاڈنگ کی جائے اور پھر ان کو مختلف زبانوں میں ڈھال کر انگریز بچے انگریزی میں اور جرمن بچے جرمن میں اور چینی بچے چینی میں اور انڈونیشین بچے انڈو نیشین میں اپنی اپنی قوم کے بچوں کو سنبھالنے کا انتظام کریں اور وہ ان کو نمازیں پڑھنے کے طریق سکھائیں۔نماز کے آداب بتائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مقام کے متعلق بچوں کو آگاہ کریں تا کہ اگلی نسل کی پوری پوری تربیت ہو اور ہمارے احمدی بچے ساری دنیا کی رہنمائی کرنے لگیں۔پاکستانی بچوں کی منفرد حیثیت اس سلسلہ میں سب سے پہلی ذمہ داری پاکستان کے بچوں پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ پاکستان میں سلسلہ کا مرکز قائم ہے اور روحانی طور پر فائدہ اُٹھانے کا جتنا موقع یہاں کے بچوں کو حاصل ہے اتنا باہر کے بچوں کو تو میسر نہیں آسکتا۔اس لیے مجلس خدام الاحمدیہ کے شعبہ اطفال کے تحت اب ایسے پروگرام بنے