مشعل راہ جلد سوم — Page 186
186 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم با قاعدی منصو بہ بنایا جائے اور اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ اس کے بعد جب ہم نے مختلف زاویوں سے حالات کا جائزہ لیا، نجی قوم کا گہری نظر کے ساتھ مطالعہ کیا اور بعض فجینز (Fijians) سے ملاقاتیں کیں تو معلوم ہوا کہ یہ قوم اللہ کے فضل سے قبول ( دین حق) کے لئے بالکل تیار بیٹھی ہے پس معمولی سی کوشش کی ضرورت ہے۔شفاء بخشنے والا تو اللہ ہے، انسان تو کسی مبروص کو شفا نہیں دے سکتا۔دم مسیح تو خواہ مخواہ مشہور ہے اصل تو میرے اللہ کی برکت تھی جس دم میں بھی آجائے وہ دم مسیح بن جایا کرتا ہے اس لئے ہم کمزوروں کے ہاتھوں اگر خدا نے یہ شفا مقدر فرمائی ہے تو یہ اس کا احسان ہے اور مجھے یقین ہے کہ ضرور شفا عطا فرمائے گا کیونکہ یہ رویا اس کے بغیر دکھائی نہیں جاسکتی تھی۔چنانچہ اس واقعہ کے دوسرے یا تیسرے دن ہم ایک ایسے جزیرے میں بھی پہنچے جس کا نام Vanualevu (وبنوالیوہ) ہے لیکن اس کے صدر مقام کا نام لمباسا ہے وہاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شیدائی کافی تعداد میں موجود ہیں وہاں جب ان سے ملاقاتیں ہوئی تو انہوں نے شام کو ایک پروگرام رکھا ہوا تھا جس میں بعض فجینز (Fijians) جو اس علاقہ کے معززین شمار ہوتے تھے ان کو بھی مدعو کیا ہوا تھا اور پروگرام تو یہ تھا کہ صرف سرسری ملاقات ہوگی، چند باتیں ہوں گی، ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے کے بعد پھر ہمارا جماعت کا پروگرام شروع ہو جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی غیر معمولی طور پر خود ہی یہ انتظام فرما دیا کہ (دینی) گفتگو چل پڑی۔ایک ہندو دوست بھی آئے ہوئے تھے انہوں نے ایک سوال چھیڑ دیا۔پھر سوال کے بعد ایک اور سوال، پھر اور سوال۔اس طرح وہاں اچھی خاصی لمبی مجلس لگ گئی اور جو نجین (Fijian) دوست تھے وہ عیسائی تھے۔اکثر تعلیم یافتہ محبین وہاں عیسائی ہیں۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے گہری دلچسپی لینی شروع کر دی اور یہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوا کہ با وجود اس کے کہ ایک چھوٹی سی مجلس لگی ہے ایک دم تو انسان کے خیالات نہیں بدلا کرتے لیکن ان میں میں نے یہ حوصلہ بھی دیکھا، یہ ذہانت دیکھی، یہ دل کی سچائی دیکھی کہ جب بات میں ان کو سمجھا تا تھا تو وہ تسلیم کرتے تھے۔ساتھ کہتے تھے ہاں یہ ٹھیک ہے اور جتنے مسائل بھی ہوئے ہیں ایک کے متعلق بھی اختلاف پیدا نہیں ہوا یہاں تک کہ جو ہندو دوست شامل تھے انہوں نے بھی تائید شروع کر دی۔اور بعد میں انہوں نے کہا کہ آج جو مجلس لگی ہے اس کی ساری باتوں سے ہمیں اتفاق ہے چنانچہ بیمحض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا اور اس نے اس رویا میں جو خوشخبری دی تھی ساتھ ہی اس کو پورا ہوتے دیکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائی اور یہ سمجھا دیا کہ ان کی بیماریاں صرف سطحی ہیں اگر ذرا بھی توجہ دی جائے گی تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ لوگ شفاپا جائیں گے۔