مشعل راہ جلد سوم — Page 175
مشعل راه جلد سوم 175 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یہ جو دو آیتیں میں نے قرآن کی پڑھی ہیں ان میں اس سوال کا حل موجود ہے۔قرآن کریم نے معقول حل پیش کیا ہے (البقره:187) اب آپ دیکھئے کہ آپ کے دل کو یہ حل پسند آتا ہے کہ نہیں۔آپ کے دماغ کو اچھا لگتا ہے کہ نہیں۔اگر اچھا لگتا ہے تو پھر اس بات کا کیا غصہ کہ یہ قرآن میں ہے جس کو ہم نہیں مانتے اس لئے ہم یہ حل نہیں مانیں گے۔معقول آدمی کا تو کام ہے اگر سونے کی خواہش ہے تو جہاں سے سونا ملے اس کو قبول کرے۔اچھا حل، اچھا جواب جہاں سے ملے اس کو لے لینا چاہیے اور میں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں اس سوال کا جواب موجود ہے اور ہے بھی بہت معقول اور بڑا اچھا۔اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو مجھے تلاش کرنا چاہتے ہیں مجھ پر فرض ہے کہ میں ان کو اپنا رستہ دکھاؤں ، اپنا قرب عطا کروں۔کیونکہ انسان تو کمزور ہے لیکن خدا اور خالق اور مالک اور God اور پر ماتما اور پرمیشور ( جو نام آپ اس کا رکھیں ) وہ تو کمزور نہیں۔اس کو پتہ ہے میں کہاں ہوں۔انسان اس کو ڈھونڈ ہی نہیں سکتا جب تک وہ خود نہ بتائے۔اس لئے خدا نے اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی اپنے اوپر ذمہ داری ڈالی۔چنانچہ خدا کہتا ہے کہ تم نے میرے پاس آنا ہے تو مجھ سے پوچھو۔میں کہاں ہوں بجائے اس کے کہ لوگوں سے پوچھتے رہو۔پنڈت کے پاس جاؤ، کبھی پادری کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ میں کہاں ہوں۔تم کہاں کہاں دھکے کھاؤ گے، کس کس دروازے کی بھیک مانگو گے، کس کس دکان پر پہنچ کر تلاشیاں لو گے کہ خدا ہے یا نہیں۔خدا فرماتا ہے تم مجھے آواز دو میں تمہاری آواز کو سنتا ہوں۔میں ہر جگہ موجود ہوں۔میں تمہاری آواز کا جواب دوں گا۔میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں کہاں ہوں اور کس طرح مل سکتا ہوں۔میں تمہیں ہدایت دوں گا تم سے پیار شروع کر دوں گا۔بچپن میں دعا کی عادت ڈالئے پس یہ تو بالکل الٹ قصہ نکلا۔خدا کا پانا جتنا مشکل نظر آرہا تھا اتنا ہی یہ تو بہت ہی آسان ہو گیا کہ انسان کا کام ہے دعا کرے اور خدا سے پوچھے کہ اے خدا! تو کہاں ہے۔خدا کہتا ہے اے میرے بندو! تم مجھے بلاؤ تو سہی میں تمہارے پاس ہوں گا اور تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔چنانچہ قرآن کریم سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ