مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 147

147 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے کارکنان کی اولادیں نماز سے غافل ہو رہی ہیں۔ہر صورت میں تو نعوذ باللہ ایسا نہیں ہے۔لیکن اگر سلسلے کے دس فیصدی کارکن بھی ایسے ہوں جن کی اولادیں نماز سے غافل ہیں تو یہ بڑی خطرناک بات ہے اور میرے نزدیک ایسے کارکنان کے بچوں کی تعداد جو عملاً نماز سے غافل ہو چکے ہیں اس سے زیادہ ہے۔اس لئے ان کی طرف بھی توجہ دینا ضروری ہے۔نظام جماعت کو ان کے بچوں کو سنبھالنے میں ایسے کارکنوں کی مدد کرنی چاہیے۔لیکن اصل میں تو گھر ہی تربیت کا گہوارہ ہے اور گھر کے معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ باپ اپنی اولاد کا ذمہ دار ہے۔قرآن کریم نے مختلف رنگ میں بڑے ہی گہرے اثر کرنے والے انداز میں اس مضمون کو پھیر پھیر کر بیان فرمایا ہے۔کہیں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی مثال دی کہ وہ کس طرح صبح اٹھ کر با قاعدہ اپنے گھر والوں کو نماز کی تعلیم دیا کرتے تھے۔وہ بڑے صبر کے ساتھ اس پر قائم رہے اور ساری زندگی اس کام سے تھکے نہیں۔کہیں فرمایا :- لَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللَّهَ فَانسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (الحشر : 20) کہ دیکھو! ان بدقسمتوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے ایک دفعہ اللہ کو یاد کیا اور پھر اسے ہمیشہ کے لئے بھلا دیا۔فَانسَهُمُ انْفُسَهُم پس اللہ نے ان کو خود اپنے آپ سے بھلوادیا۔ان کو اپنے نفوس کی اور اپنے اموال کی خبر نہ رہی ان کو اچھے بُرے کی تمیز نہ رہی۔انسان کے لئے سب سے بڑی ہلاکت یہ ہوا کرتی ہے کہ اسے اچھے بُرے کی تمیز نہ رہے۔اس کو اپنے حقیقی مقصد اور فائدے کا علم نہ ہو اور اسی کا نام پاگل پن ہے۔اس کے سوا پاگل پن کی کوئی اور تعریف بنتی ہی نہیں۔ہر وہ شخص جو اپنے مفاد کے متعلق نہ جان سکے کہ میرا اصل مفادکس بات میں ہے، وہ ایسی باتیں کرتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ پاگل ہو گیا ہے۔کوئی اپنی جائیداد ضائع کر دے یا کوئی ایسی بات کرے کہ لوگ کہیں بیہودہ حرکت کر رہا ہے اور لوگوں کے سامنے بدنام ہو رہا ہو تو وہ بھی پاگل ہے۔الغرض ہر بات میں پاگل پن کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مفاد سے بے خبر ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَانسَهُمْ اَنْفُسَهُمْ وہ ان لوگوں کو پاگل کر دے گا ان کو اپنی بھی ہوش نہیں رہے گی۔ان کو پتہ نہیں ہوگا کہ کس چیز میں ہمارا فائدہ ہے اور کس میں نہیں؟ اس لئے کہ اللہ جو ہر بات کا آخری Reference ہے اس کو انہوں نے بھلا دیا۔اگر خدا سے تعلق جوڑ کر راہ نمائی حاصل نہ کی جائے تو