مشعل راہ جلد سوم — Page 145
مشعل راه جلد سوم 145 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی اس نے کہا رات کو جنگلی جانوروں کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور کہیں آتا ہے کہ مجھے ساتھ لے جانے والا کوئی نہیں ہے۔اس لئے مجھے اجازت دی جائے کہ میں گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کروں۔حضور نے اجازت فرما دی۔جب وہ اٹھ کر جانے لگا اور ابھی قدم باہر رکھا ہی تھا تو حضور نے اسے واپس بلا یا کہ بات سُن جاؤ۔اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا بات ہے؟ حضور نے فرمایا هَلْ تَسْمَعُ البَدَاءَ بِالصَّلوة کہ کیا تمہیں نِدَاء بِالصَّلوة آتی ہے؟ اس سے مراد ا ذان لے لیں یا تکبیر لے لیں حضور کا مقصد یہ تھا کہ نماز کی طرف بلانے کی آواز تمہارے کان میں پڑتی ہے یا نہیں؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں آواز سنتا ہوں تو فرمایا پھر جواب دیا کرو۔تمہیں یہ اجازت نہیں ہے کہ تمہارے کانوں میں آواز پڑے اور اس کے باوجود تم انکار کر دو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلیم دینے کا عجیب طریق تھا اور اتنا لطیف اور پیارا کہ آپ کی باتوں کی تہہ میں جائیں تو حسن ہی حسن نظر آتا ہے۔اس نابینا آدمی کو یہ تعلیم دی کہ تم آنکھوں سے محروم ہو، لیکن کانوں کو تو اب سے کیوں محروم رکھتے ہو؟ جن اعضاء کے ذریعے تمہیں خدا کی طرف بلایا جارہا ہے وہاں سے تو لبیک کہہ دو۔ایک بدقسمتی کے نتیجہ میں دوسری بد قسمتی کیوں مول لیتے ہو؟ یہ تھا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کا طریق۔مسلم کی روایت ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلوةِ فَقَالَ نَعَمُ قَالَ فَاجِبْ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا آدمی میسر نہیں جو مجھے ( بیت الذکر ) تک لے کر جایا کرے۔اس لئے مجھے اجازت مرحمت فرمائی جائے کہ میں اپنے گھر میں ہی نماز ادا کر لیا کروں۔چنانچہ حضور نے اجازت دے دی لیکن جب وہ اٹھ کر واپس جانے لگا تو حضور نے اسے بلایا اور دریافت فرمایا کیا تمہیں نماز کی طرف بلانے کی آواز آتی ہے؟ اس نے عرض کی ”ہاں، یا رسول اللہ۔تو حضور نے فرمایا فَاجِب پھر جواب دیا کرو۔یعنی نماز کے لئے ( بیت الذکر ) میں حاضر ہوا کرو۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب اتيان المسجد على من سمع النداء )