مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 143

143 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بہر حال میں نے ذمہ دار احباب سے کہا کہ چھ مہینے کے بعد آپ اپنے انتباہ میں نسبتاً زیادہ سنجیدہ ہو جائیں اور کارکنوں کو بلا کر سمجھائیں اور کہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ہم تمہیں نمازوں پر مجبور نہیں کر سکتے لیکن جبر نہ ہونے کے دو نقص ہیں۔اگر تم پر جبر نہیں تو جماعت احمدیہ پر کیا جبر ہے کہ وہ ضرور بے نمازیوں کو ملازم رکھے۔اس لئے دوطرفہ معاملہ چلے گا۔صرف تم آزاد نہیں ہو۔جماعتی نظام بھی آزاد ہے۔وہ آزاد ہے اس معاملے میں کہ جس قسم کے کارکن چاہے رکھے اور جس قسم کے چاہے نہ رکھے۔اس کو اختیار ہے۔اس لئے ہم تمہیں موقع دیتے ہیں کہ تم اپنی نمازیں درست کر ولیکن چونکہ تم آزاد ہو، ہو سکتا ہے تم یہ فیصلہ نہ مانو۔ہم داروغہ نہیں۔داروغہ تو اصل میں خدا ہی ہے۔تم نے بھی اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔اس لئے اگر تم یہ فیصلہ نہیں مان سکتے تو ہم تمہیں کوئی سزا نہیں دیں گے۔جزا سزا کا معاملہ اللہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن ہم بھی اس بات میں آزاد ہیں کہ تمہارے جیسے کارکنوں کو نہ رکھیں۔ہماری بعض مجبوریاں ہیں۔ہم نے ساری دنیا میں (دعوت الی اللہ ) کی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور ساری دنیا کے لیے نمونہ بننا ہے۔اگر عبادت سے غافل کا رکن مرکز میں بیٹھے ہوں تو نہ وہ دعا ئیں کر سکیں گے ، نہ ان کے اندر تقویٰ کا اعلیٰ معیار ہوگا اور نہ ہی وہ صحیح نمونہ بن سکیں گے، بلکہ جماعت کے لئے ہزار مصیبتیں کھڑی کرتے رہیں گے۔کجا کہ سارے مرکزی کارکنان عبادتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں اور ان کے مجموعی تقویٰ کے نتیجے میں ایک زبر دست طاقت پیدا ہوا ور کجا یہ کہ چند آدمی باقی تمام کارکنوں کا حق ادا کر رہے ہوں اور اکثریت غافل ہو اور جماعت پر بوجھ بنی ہوئی ہو۔اس پہلو سے چھ مہینے کے بعد ذمہ دار افسران نے نماز سے غافل کارکنوں کو وارننگ دینی تھی۔لیکن میں خاموشی سے دیکھتا رہا۔میرے نزدیک اس کام میں غفلت کی گئی ہے۔اس لئے سال کے بعد پکڑنے کی بجائے ابھی جو تین مہینے باقی ہیں ان میں ایسے کارکن فیصلہ کر لیں کہ انہوں نے سلسلہ کی ملازمت کرنی ہے یا نہیں کرنی۔یہ بات مجھے اس وقت سے یاد ہے جب میں نے انجمنوں کو اس بارے میں ہدایت دی تھی اور مسلسل یا درہی ہے اور جب بھی میں نمازیوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو یاد آتی رہتی ہے۔اس لئے کوئی یہ خیال دل میں نہ لائے کہ میں اسے بھول چکا ہوں۔یہ جو فیصلہ ہے اس پر بہر حال عملدرآمد ہوگا۔اللہ تعالیٰ سلسلے کو بہتر کارکن دے دے گا۔انشاء اللہ۔مجھے قطعاً کوئی پرواہ نہیں کہ بے نمازی نکل جائیں گے تو ہمارے کام کون کرے گا؟ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بے نمازی نکلیں گے تو کام بہتر ہوں گے اور آپ کو یقین آئے نہ آئے مجھے اس بات پر کامل یقین ہے کیونکہ خدا کا کلام جھوٹا نہیں ہوسکتا۔خدا کا کام خدا کی عبادت