مشعل راہ جلد سوم — Page 142
مشعل راه جلد سوم 142 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مرکزی کوشش کے لئے غلامانہ حیثیت رکھتے ہیں۔اگر یہ نظام اوپر آجائیں اور یہ آقا یعنی عبادت کا مقام نیچے ہو جائے تو معاملہ بالکل الٹ ہو جائے گا پھر تو ویسی ہی بات ہو جائے گی کہ کشتی نیچے چلی جائے اور پانی او پر آ جائے۔وہی چیز جو بچانے کا موجب ہوتی ہے وہ تباہی کا موجب بن جاتی ہے۔حالانکہ پانی اور کشتی کا تعلق وہی رہتا ہے جو کشتی کے اوپر ہے وہ بھی پانی ہے اور جو کشتی کے نیچے ہے وہ بھی پانی ہے لیکن نسبت بدلنے سے نتیجہ الٹ نکل رہا ہے۔یعنی اوپر کا پانی ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے اور وہی پانی جب نیچے ہوتو بچانے کا موجب بن جاتا ہے۔اس لئے نسبتوں کا درست ہونا ضروری ہے۔عبادت نظام جماعت کی غلام نہیں ہوگی بلکہ نظام ، عبادت کا غلام ہوگا۔ہم تبھی زندہ رہیں گے جب نظام جماعت عبادت کا غلام ہوگا۔مرکز کی اہمیت پس میں نے ان تمام انجمنوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کے جتنے بھی کارکن ہیں ان کی طرف توجہ کریں۔ہر انجمن کے سر براہ کا فرض ہے، اسی طرح ہر شعبے کے انچارج کا یہ فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ مرکزی نمائندگان سلسلہ اپنے حق اس رنگ میں ادا کر رہے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں۔تمام دنیا کی آنکھیں مرکز کی طرف لگی ہوئی ہیں اور مرکز میں بھی جو سلسلہ کے کارکنان ہیں وہ بڑے نمایاں طور پر لوگوں کی نظر کے سامنے نمونہ کے طور پر ہوتے ہیں۔اگر یہ لوگ بداعمالیاں کریں تو ہلاکت کا موجب بن سکتے ہیں اور اگر نیک اعمال کریں تو ان کی نیکیاں عام انسانوں کی نیکیوں کے مقابل پر ان کو کئی گنازیادہ ثواب پہنچاسکتی ہیں۔چنانچہ میں نے انہیں جو ہدایت دی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ توجہ کریں، میں آپ کو چھ مہینے دیتا ہوں، بار بار نصیحت کے ذریعے کوشش کریں کہ تمام کارکنان نماز کے فریضے کی ادائیگی سے پیچھے نہ رہیں سوائے اس کے کہ کوئی بیماری کی وجہ سے مجبور ہو۔اسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ٹانگوں کی بیماری ہے یا کمر کی تکلیف ہے یا اسی قسم کی اور کئی تکلیفیں ہو سکتی ہیں کہ انسان دفتر میں تو پہنچ جاتا ہے اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے فرائض بھی ادا کر دیتا ہے لیکن با جماعت نماز کی توفیق نہیں پاسکتا۔اس لئے جہاں تک شرعی مجبوریوں کا تعلق ہے ہم ان میں دخل نہیں دے سکتے۔لیکن واضح اور یقینی شرعی مجبوریوں کے سوا سلسلے کے سارے کارکنان کو نمازوں میں پیش پیش ہونا چاہیے اور دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ بننا چاہیے۔