مشعل راہ جلد سوم — Page 119
مشعل راه جلد سوم 119 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی بی۔ایس سی ، ایم۔ایس سی کی قیود میں باندھ کر اگر آپ علمی سفر شروع کریں گے تو آپ کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہیں گی۔کیوں آپ ایف ایس سی میں ایم۔ایس سی کی باتیں نہیں سوچ سکتے یا پڑھ سکتے۔آپ کو پڑھنا چاہیے آپ پڑھ سکتے ہیں۔انسانی دماغ کا مکمل استعمال آج تک نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنا عظیم الشان دماغ دیا ہے کہ سائنسدان جنہوں نے دماغ پر غور کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم دماغ کا ہزارواں حصہ بھی استعمال نہیں کر سکے Untapped Resources میں پڑے ہوئے ہیں۔اس کی چھان بین کرنے والے شکست تسلیم کر چکے ہیں کہ آج تک ہم سب سے کم جس چیز کو سمجھ سکے ہیں وہ انسانی دماغ ہے اور بد قسمتی یہ ہے کہ اس کا اکثر حصہ بغیر استعمال کے ہی پڑا رہ جاتا ہے۔جس طرح دنیا کے پسماندہ ممالک میں ان کے اکثر ذرائع اور وسائل بغیر استعمال کے پڑے رہ جاتے ہیں، اسی طرح ان بیچاروں کے دماغ بھی بغیر استعمال کے پڑے رہ جاتے ہیں۔جن قوموں نے اپنے دماغ کو استعمال کرنے کی جرات کی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے پھل دیئے ہیں۔ایٹم بم کی کہانی امریکہ میں ایک نوجوان سائنس کا سٹوڈنٹ تھا جس نے ابھی ڈگری بھی حاصل نہیں کی تھی۔اس کے پروفیسر نے باتوں باتوں میں ایٹم بم کا ذکر کیا۔اس نے کہا کہ ایٹم بم تو میں بھی بنا سکتا ہوں۔اس میں کون سی مشکل بات ہے پروفیسر نے کہا کہ تم کس طرح بنا سکتے ہو؟ تمہارے پاس نہ تو اسباب (Resources) ہیں، اور نہ تمہیں اتنا علم ہے۔اس نے کہا جو باتیں آپ نے مجھے بتائیں ہیں ان کی رو سے، جس طرح باقی سائنسدان کرتے ہیں، لائبریریوں میں بیٹھ جاتے ہیں، یہ کتاب نکالی، وہ کتاب نکالی، اسی طرح جوڑ جاڑ کے میں بھی بنا سکتا ہوں۔پروفیسر کو اس بات پر اتنا غصہ آیا کہ اس نے کہا تم میری کلاس سے نکل جاؤ۔اگر تم اتنے قابل ہو تو تمہیں یہاں بیٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس نے کہا میں اس شرط پر نکلوں گا کہ میرے لیکچر شارٹ (Short) یعنی کم نہ ہوں۔کیونکہ میں نے پاس بھی تو ہونا ہے۔اس نے کہا اچھا! پھر تمہارے ساتھ یہ شرط ہوگی کہ اگر فلاں تاریخ تک جو امتحان کی تاریخ ہے، تم نے ایٹم بم کا خاکہ Blue Print بنادیا اور ہر پرزے کے متعلق مجھے بتا دیا کہ یہ اس طرح بنتا ہے تو میں یونیورسٹی کے بورڈ میں سفارش کروں گا کہ تمہیں بغیر