مشعل راہ جلد سوم — Page 8
8 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم جن پر سارا عرب فخر کیا کرتا تھا۔اُن کی بہادریوں کے گیت گائے جاتے تھے۔اُن کے مقابل پر جنگِ بدر کے میدان میں مسلمانوں کے لشکر میں ایسے بھی تھے جو بوڑھے تھے۔بعض لنگڑے تھے۔بعض ایسے تھے جن کے پاس تن ڈھانپنے کے پورے کپڑے نہیں تھے۔ان میں سے بعض شہید ہوئے تو اُن کے کپڑے سے اوپر کا تن ڈھانکا جاتا تھا تو نیچے کا تن ننگا ہو جاتا تھا، نیچے کا ڈھانکا جاتا تھا تو اوپر کاتن نگا ہو جاتا تھا لیکن خدا کے ان عبادت گزار بندوں کو جب جہاد کے لئے بلایا گیا تو محض خدا کی عبادت کی خاطر اور اس کے نام کی بلندی کے لئے وہ میدانِ جنگ میں حاضر ہو گئے۔یہ وہ لوگ تھے جن کے لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی اللهُمَّ اِنْ تُهلِكُ هَذِهِ العِصَابَةَ فَلَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا ان خوش قسمت لوگوں میں بعض بچے بھی تھے ایسے بچے جو شوق شہادت میں بڑا بنے کی کوشش کر رہے تھے اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کر کھڑے ہوتے تھے تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو رڈ نہ فرماویں کیوں کہ آنحضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ چھوٹی عمر کے بچوں کو واپس کر دیا جائے گا۔میدان جنگ میں بالغ مردوں کی ضرورت ہے اور بالغ لوگوں پر ہی جہاد فرض ہے۔بچوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں پہنچیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بچے قطار میں اس طرح کھڑے تھے کہ ایڑیاں اونچی کر کے پنجوں کے بل کھڑے تھے اور گردنیں تان رکھی تھیں تا کہ قد اونچا نظر آئے۔وہ اس لئے ایسا نہیں کر رہے تھے کہ ان کوکوئی تکبر تھا۔وہ اس لئے ایسا کر رہے تھے کہ خدا کی راہ میں گردنیں کاٹی جائیں اس کے سوا ان کو گردنوں کو اونچا کرنے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ نظارہ دیکھا تو مسکرا کر فرمایا۔میں تمہیں جانتا ہوں۔تم بچے ہو تمہیں واپس چلے جانا چاہیے۔ایک بچے نے دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ ! میری عمر اس سے زیادہ ہے۔اس لئے مجھے اجازت دیدیں۔چنانچہ اس کا شوق اور بے قراری دیکھ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی۔دوسرا بچہ بیقرار ہوکر بولا یا رسول اللہ! کشتی کروا کر دیکھ لیں۔میں اس کو گرا لیا کرتا ہوں۔اگر اس کا حق شامل ہونے کا ہے تو میرا حق فائق ہے۔چنانچہ حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی اجازت دے دی۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہی وہ دو بچے تھے جو ایک مسلمان مجاہد کے دائیں اور بائیں کھڑے تھے۔ان کی یہ روایت ہے کہ جب میں نے اپنی دائیں اور بائیں طرف دیکھا تو میں پریشان ہوا کہ میرے دونوں باز و کمزور ہو گئے کیوں کہ لڑنے والے سپاہی جانتے ہیں کہ اگر باز و مضبوط ہوں تو ان کو خدمت کا زیادہ موقع