مشعل راہ جلد سوم — Page 684
684 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم چھوٹا سا چٹکلا کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے۔اب یہ بھی ایک بڑا عظیم ( دعوت الی اللہ کا نکتہ ہے کہ بعض دفعہ انسان کو کسی آدمی کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ میں اس قسم کی بات کروں گا تو پھر اس کا دل سوچنے پر مجبور ہو جائے گا ایک چھوٹا سے چٹکلا اس کے سامنے چھوڑ دیا جاتا ہے پھر کبھی اتفاق ہوا تو پھر سہی تھوڑی سی بات کی پھر اعراض کیا اس کے پیچھے نہ پڑے پھر جب جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس چھوڑے ہوئے چٹکلے نے کچھ نہ کچھ کام کر دکھایا ہے پھر کبھی اتفاق ہوا تو پھر سہی غرض آہستہ آہستہ پیغام حق پہنچاتا رہے اور تھکے نہیں کیونکہ آج کل خدا کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق کو لوگ دیوانگی سمجھتے ہیں اگر صحابہ رضوان اللہ میھم اس زمانہ میں ہوتے تو لوگ انہیں سودائی کہتے اور وہ انہیں کا فر کہتے۔دن رات بیہودہ باتوں اور طرح طرح کی غفلتوں اور دنیاوی فکروں سے دل سخت ہو جاتا ہے اور بات کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔ذاتی مثال اب ذاتی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ایک شخص علی گڑھی غالبا تحصیلدار تھا میں نے اسے کچھ نصیحت کی وہ مجھ سے ٹھٹھا کرنے لگا میں نے دل میں کہا میں بھی تمہارا پیچھا چھوڑنے والا نہیں ہوں تم نے جو ٹھٹھا کرنا ہے کر لو میں تو اپنی بات پہنچاؤں گا آخر باتیں کرتے کرتے اس پر وہ وقت آ گیا کہ وہ یا تو مجھ پر تمسخر کر رہا تھایا چنیں مار مار کر رونے لگا دیکھتے دیکھتے اپنے تمسخر پر اتنی حیا آئی اتنی شرمندگی ہوئی خود اپنے نفس کو اتنی تکلیف پہنچی کہ میں کس بزرگ سے تمسخر کر رہا ہوں پس یا وہ تمسخر کر رہا تھا یا چینیں مار مار کر رونے لگا بعض وقت سعید آدمی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شقی ہو ہمیں دلوں کا حال معلوم نہیں اللہ ہی جانتا ہے ہم جس کو صحیح فطرت سمجھ رہے ہوتے ہیں کھود کر دیکھیں تو شقی نکلتا ہے جس کو سخت دل سمجھ رہے ہوتے ہیں کرید کر دیکھیں تو نرم دل نکلتا ہے پس ( دعوت الی اللہ ) میں ان سارے امکانات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔پھر ہر شخص کو کسی مضمون کا قائل کرنے کے لئے اس کی ایک کنجی ہوا کرتی ہے ہر کنجی سے ہر تالہ نہیں کھل سکتا مگر کنجی کی تلاش کرنی چاہیے۔کس شخص کا دل کس بات سے کھل جائے گا اور ( دعوت الی اللہ ) کے لئے وہ اپنے دروازے کھول دے گا فرماتے ہیں یا درکھو ہر قفل کے لئے کلید یعنی چابی ہے بات کے لئے بھی ایک چابی ہے وہ مناسب طرز ہے جس طرح دواؤں کی نسبت میں نے ابھی کہا ہے کہ کوئی کسی کے لئے مفید اور کوئی کسی کے لئے مفید ہے ایسے ہی ہر ایک بات ایک خاص پیرایہ میں خاص شخص کے لئے مفید ہوسکتی ہے