مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 671

مشعل راه جلد سوم 671 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تلاوت قرآن کریم اور ترجمہ کے بعد حضور نے خدام کا عہد دہرایا جس کے بعد حضرت مصلح موعود کی نظم ” نو نہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے کے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے گئے۔مکر سید احمد بیٹی صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ کی رپورٹ کے بعد حضور انور نے انعامات تقسیم فرمائے اور پھر اختتامی خطاب میں حضور نے فرمایا کہ رپورٹ سے مجموعی تاثر یہ ہوتا ہے کہ اس سال کا اجتماع کئی لحاظ سے بہتر رہا۔میں ایک لمبے عرصے سے یہ خواہش کرتا رہا ہوں کہ یو کے جماعت کے خدام بھی جرمنی کے خدام کی طرح زیادہ تعداد میں شامل ہوں کیونکہ میں ہجرت کے بعد ان کے درمیان ہوں۔میرا یہ بھی خیال تھا کہ خدام الاحمدیہ ( دعوۃ الی اللہ ) میں زیادہ سرگرم ہو نگے لیکن ایسا نہیں ہوا۔آپ یہاں آکر باتیں سنتے ہیں اور گھر جا کر بھول جاتے ہیں۔جتنا زیادہ آپ کا ضمیر جاگا ہوا ہو گا اتنا ہی زیادہ ( دعوۃ الی اللہ ) میں آپ کامیاب ہونگے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اگلے سال حاضری اس سے بہت زیادہ ہوگی۔حضور نے فرمایا کہ اپنی روحانی تخلیق کرو۔مجھے ان باتوں کی اتنی فکر رہتی ہے اور اس عالم بے بسی میں خدا سے دعائیں کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔اگر خدام اپنی کوششوں میں ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہیں تو یو۔کے کے خدام میں ایک نیا ماحول پیدا ہو جائے گا۔حضور نے فرمایا کہ میں نئی انتظامیہ کو ( دعوۃ الی اللہ کی ) سرگرمیاں تیز کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔اردو کلاس کے بچوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کیونکہ آپ نے ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ہماری بیدارد و کلاس بعض خصوصیات کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر دلعزیز ہو چکی ہے۔ایک تو اس وجہ سے کہ یہ کسی موسیقی کی دھن کے بغیر گاتے ہیں اور دوسرے ان کے نغمات پاکیزگی اور روحانیت سے لبریز ہوتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوا اگر دنیا کے باقی ٹی وی بھی ہماری نقل کریں اور معصوم بچوں کی دنیا میں ایک روحانی انقلاب برپا کر دیں۔غیر احمدی بچے بھی احمدی بچوں کے گائے ہوئے نغمات شوق سے سنتے ہیں خاص طور پر وہ جن میں خدا تعالی کی تعریف کی گئی ہے۔آخر میں حضور نے الوداعی دعا کروائی اور دعا کے ساتھ یہ اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔) مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 اکتوبر 1998ء)