مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 663

663 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم وعدہ قول سدید سے وابستہ فرما دیا ہے تو ظاہر ہے کہ قول سدید نہیں ہوگا تو اصلاح نہیں ہوگی۔یہ دو باتیں قول سدید اور اصلاح لازم وملزوم ہیں۔اگر ایک نہیں ہوتی تو دوسری بھی نہیں ہوگی اور یہ نکتہ اکثر لوگ اپنے بچوں کی تربیت میں بھلا دیتے ہیں۔بچوں سے جو بات کہو صاف اور سیدھی کہو۔اس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ اول تو تمہاری زیادہ تو قیر کریں گے کیونکہ جو شخص اپنے وعدے کا پکا ہو اور صاف کھری بات کہنے والا ہو ہمیشہ اس کے لئے دلوں میں عزت پیدا ہوتی ہے۔یہ بھی ایک ایسا طبعی نتیجہ ہے جسے نظر انداز کیا ہی نہیں جاسکتا۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ کھری بات کرنے والے تھے۔اگر کھری بات کے نتیجے میں لوگ دور بھاگ رہے ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد تو کوئی بھی نہ رہتا۔اصل میں آپ کا لوگوں کے اوپر رحمت اور شفقت کا سلوک ایک الگ مسئلہ ہے ، اس نے بھی لوگوں کو کھینچے رکھا، مگر یہ بات لوگ نظر انداز نہ کریں کہ کھری بات کہنے سے بھی عزت بڑھتی ہے اور جو ہمیشہ کھری بات کہنے والا ہو آہستہ آہستہ اس کی نصیحت سے منافرت نہیں پیدا ہوتی بلکہ دن بدن اس کی عزت اور احترام کا جذ بہ دل میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھری باتیں کہنے میں ، ظاہر ہے ، دنیا میں تمام پہلوں اور اگلوں سے سبقت لے گئے اور سب سے زیادہ آپ کی تو قیر کی گئی۔بہت گہری تو قیر ہے جو صحابہ کے دل میں بھی تھی ، بلکہ دشمن بھی آپ کی کھری بات کی قدر کرتا تھا۔جو ابو جہل والا واقعہ آپ کے سامنے ہے اس میں بھی آپ نے جا کر ، جبکہ وہ شدید مخالف تھا، کھری بات کہی اور اس کے دل میں اس کھری بات کا رعب پڑ گیا۔جب بھی کوئی غیر آپ کی بات سنتا تھا جانتا تھا کہ کچی بات ہے اور اس کے نتیجے میں منافرت کی بجائے عزت بڑھا کرتی تھی۔پس اپنے گھروں میں یہ تجربہ تو کر کے دیکھو۔اپنے بچوں سے کھری بات کہوا اور دیکھو کہ ان کے دلوں میں دن بدن عمر کے ساتھ ساتھ تمہاری عزت بڑھے گی اور اگر یہ نہیں کرو گے تو پھر اولا د ہاتھ سے جاتی رہے گی۔آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اپنے بچوں سے دھوکے کی باتیں کرتا ہو اور بچے پھر ان کی کوئی عزت کرتے رہیں یا آزاد ہونے کے بعد دین اور دنیا سے ہر لحاظ سے ان کے اثر سے باہر نہ نکل گئے ہوں۔جب ان کو توفیق ملتی ہے وہ بڑے ہو کر اپنے ماں باپ کے دائرہ اثر سے باہر نکل جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موضوع پر تین باتیں ایسی بیان کیں جو منافق کی نشانی ہیں۔ان میں سے ایک وہی ہے جس کا ذکر کر رہا ہوں۔فرمایا منافق وہ ہے جو جب کوئی وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔( صحیح بخاری۔کتاب الشہادات )