مشعل راہ جلد سوم — Page 656
656 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم نئی نسلوں کو بچالوا ور شروع ہی سے ان کی فکر کرو اور جو ان میں سے کمانے والے ہیں ان پر لازم کر دو کہ وہ ضرور پہلے چندہ ادا کریں ، باقی باتیں بعد میں دیکھیں۔اگر یہ کر لیں تو بہت بڑی احمدی نسلیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ کے لئے اس شر سے بچائی جاسکتی ہیں۔امریکہ کے دورہ کے وقت بھی اور یہاں بھی ملاقات کے دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ بہت سے احمدی بچے اور بچیاں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھے عہدوں پر نئے نئے فائز ہوئے ہیں یا فائز ہونے کی توقع رکھتے ہیں ان کے والدین کو ان کی فکر نہیں کہ اس وقت یہ اصل وقت ہے کہ ان کو سمجھایا جائے کہ تمہارا مال تم پر حرام ہے جب تک پہلے خدا کا حصہ نہ نکالو اور اس وقت ان کے لئے آسان ہے کیونکہ نوجوان نسلیں بوڑھی نسلوں کے مقابل پر نسبتا اپنے مزاج میں نرمی رکھتی ہیں۔یعنی ان کے اندر لوچ پائی جاتی ہے اور وہ مال کی محبت میں ابھی ایسا مبتلا نہیں ہوتیں۔وہ لوگ جنہوں نے عمریں گزار دیں مال کی محبت میں ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی اصلاح کا وقت گزر چکا ہے وہ اللہ کے حوالے، جو چاہے ان سے سلوک فرمائے۔لیکن نئی نسلوں کو سنبھالنا تو نسبتاً بہت آسان ہے اور بعض ان میں سے جو مجھے ملے جن کو میں نے خود یہ نصیحت کی فوری طور پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا کہ لازماً ہم ایسا ہی کریں گے۔ایسی مائیں بھی مجھے ملیں جن کو میں نے توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے دل میں یہی تمنا اٹھ رہی ہے اور اب ہم اپنے بچے کو لاز ما اس بات کا پابند کریں گی کہ اگر تم میرے بچے ہو، جیسا ماؤں کا محاورہ ہے، میرا دودھ بخشوانا چاہتے ہو، تو سب سے پہلے اللہ کا حصہ نکالو اور باقی چیزیں پھر جس طرح چاہو اللہ تعالیٰ تمہیں تو فیق دے تم اس کے مطابق خرچ کرو اور بعض ماؤں نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کو یہ کہنا ہے کہ جو کچھ تم کماؤ گے اگر اس میں سے خدا کا حصہ نہ نکالا تو میرا حصہ بھی نہ نکالنا، مجھ پر حرام ہے۔جو تم کما کر خدا کے حصے میں سے بچاتے ہو وہ مجھ پر خرچ کرو، یہ نہیں ہوسکتا۔یہ ناممکن ہے۔اگر یہ نسل سنبھل جائے تو مستقبل کی ہمیں کوئی فکر باقی نہیں رہے گی تو بہت سی خوشکن باتیں ایسی دیکھنے میں آئیں جن سے میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری نئی ابھرتی ہوئی نسل کو سنبھالا جا سکتا ہے اور اگر یہ نسل سنبھل جائے تو مستقبل کی ہمیں کوئی فکر باقی نہیں رہے گی۔قُوْا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ نَارًا ایک ان کے حق میں بہتا ہوا موجیں مارتا ہوا چشمہ ثابت ہوگا جس کا پانی انگلی صدیوں میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ منتقل ہوتا چلا جائے گا اور بڑھتا چلا جائے گا۔تو اس سے بہتر تحفہ ہم اگلی صدیوں کے لئے کیا پیش کر سکتے ہیں کہ ایسی نسلیں آگے بھیجیں جو خدا کا حق نکالنے میں