مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 641

641 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم ہیں ، جنون ہو جاتا ہے کہ مال بھی بڑھیں ، اولاد بھی بڑھے اور ہم دنیا کی نظر میں اونچے اٹھ جائیں اور اپنی سوسائٹی کے مقابل پر ان کو ہم نیچا دیکھیں۔یہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ دنیا کی زندگی ہے۔مگر یا درکھو كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُہ ایک بارش کی طرح ہے جس سے روئیدگی نکلتی ہے ، سبزہ نکلتا ہے جب وہ زمین پر پڑتی ہے اور جو ناشکرے لوگ ہیں یا انکار کرنے والے۔یہاں کفار کا لفظ وسیع معنوں میں ہے۔وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے والے ہیں وہ اس روئیدگی کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔کہتے ہیں دیکھو ہماری دنیا کی محنت کیسا کیسا پھل لائی ہے۔پھر وہ زرد رو ہو جاتی ہے ، اس کی رونق جاتی رہتی ہے۔فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا وہ خشک ہوکر زردرو ہو جاتی ہے اور تو اس لہلہاتی کھیتی کو مُصْفَرًّا دیکھتا ہے۔ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا پھر وہ کٹے ہوئے گھاس پھوس کی طرح ہو جاتی ہے۔وَ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِید اس دنیا میں بھی ایک عذاب ہے ان لوگوں کے لئے کہ اپنی سرسبز اور شاداب ہوتی کھیتی کو وہ لہلہاتی ہوئی دیکھنے کے بعد ، بھیج کے لفظ میں لہلہانے کا مضمون ہے، خوب موجیں مارتی ہے، ہواؤں کے ساتھ ہلتی ہے، جب وہ زرد حالت میں دیکھتا ہے تو اس وقت اسے صدمہ پہنچتا ہے ساری دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔پھر فرمایا آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لئے بڑا عذاب مقدر ہے اور بعض کے لئے اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا ہے۔یعنی یہ صورت حال سب پر برابر چسپاں نہیں ہوتی۔بعض خدا کے بندے مستثنیٰ ہیں۔وہ ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، اس کے بداثرات سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں ، ان کو بھی دنیا کی زندگی کے انعامات ملتے ہیں۔لیکن اپنی آنکھوں کے سامنے اسے لہلہانے کے بعد زرد رو ہوتا نہیں دیکھتے۔فرمایا ایسے لوگوں میں سے کچھ وہ لوگ ہیں کہ جن کے لئے مغفرت بھی ہے اور رضوان بھی ہے۔اللہ ان سے بخشش کا سلوک فرمائے گا اور ان سے راضی ہو جائے گا لیکن بعض ایسے بھی ہیں وَمَا الْحَيةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ کہ جن کی یہ دنیا کی زندگی سوائے دھو کے کے کچھ بھی ان کے لئے نہیں رہے گی۔دھو کہ بھی وہ جو عارضی ہے۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ آگے ایک تنبیہ کی صورت میں ان لوگوں کے لئے پیش کرتا ہے۔فرمایا یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ نَارًا اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَة اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہوں گے اور پتھر ہوں گے۔انسان سے مراد تو سب سمجھتے ہیں۔جہنم کے اندر پتھر ڈالنے سے پتھر کو تو کوئی سزا نہیں ملتی ، پتھر