مشعل راہ جلد سوم — Page 635
مشعل راه جلد سوم ہوا نہ ہو۔ہے۔635 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی۔یہ کیفیت، یعنی اطاعت کی بات ہو رہی ہے اس لئے اس کو نر کی بجائے مادہ لفظوں میں بیان فرمایا گیا ” جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی۔اس میں ہی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچ لیتے تھے اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت رسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔آج ہمیں جماعت میں اس کشش کی ضرورت ہے۔آپ کے پیغام تو کتابوں کے ذریعہ بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن جو پیغام آپ کا وجد پہنچائے اس سے بڑھ کر طاقتور کوئی پیغام نہیں ہوسکتا کیونکہ صحابہ کرام کی طرح یہ کشش آپ کے اندر ہوگی کہ جو کوئی دیکھے گا وہ بے اختیار چلا آئے گا۔صحابہ کرام کی سی وحدت کی ضرورت ہے ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی۔یعنی عام کرامتیں جو ہیں وہ بالکل معمولی باتیں ہیں فقیروں، پیروں کی تعلیاں ہوا کرتی ہیں۔مگران کرامتوں سے بھی بڑھ کر کرامت یہ ہے کہ جو کوئی اسے دیکھے وہ بے اختیار چلا آئے۔غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہو رہی ہے اسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیار کی تھی اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونے سے ہوتی ہے اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو، باہم محبت اور اخوت ہوتو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں، ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کر و جو صحابہ کی تھی۔(الحکم جلد ۵ فروری ۱۹۰۱ء) ایک دومنٹ میں اس عبارت کے ایک دو فقرے میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں جو آئینہ کمالات