مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 59

59 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم یہ چیز ، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، کامل رضا کے مضمون کو سمجھنے سے حاصل ہوتی ہے۔آپ کے لئے میں آپ کی زبان میں باتیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔فی الحال ایک مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس کے بعد دو تین اور چھوٹی چھوٹی باتیں آپ سے کروں گا۔محمود اور ایاز کی کہانی محمود اور ایاز کی کہانی آپ نے سنی ہوگی۔یہ کہانی بہت عام ہے اور بڑی مشہور ہے محمود آقا تھا اور ایاز غلام تھا۔محمود بادشاہ تھا۔ایاز اس کے دربار کا ایک نوکر اور اتنی محبت تھی ایاز کو اپنے محمود سے اور محمود کو اپنے ایاز سے کہ وہ اس زمانہ میں بھی ضرب المثل بن گئی اور آج تک ضرب المثل بنی چلی آرہی ہے۔کہتے ہیں ہر محمود کا ایک ایاز ہوتا ہے۔ہر ایاز کو ایک محمود ملتا ہے۔یعنی محمود اور ایاز کی محبت اور وفا کا قصہ ایک قوم میں محدود نہیں رہا۔کئی قوموں میں پھیل چکا ہے۔اس محبت کی حقیقت کیا تھی ؟ اس کا راز ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہمیں سمجھ آجاتا ہے۔تمام درباری جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، جانتے تھے کہ ہم سب سے زیادہ اس غلام زادہ سے ہمارا آقا محبت کرتا ہے۔وہ خود بڑے بڑے لیڈر، بڑے بڑے نواب اور بڑے بڑے سردار تھے اور کئی شاہی خاندانوں سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ان کی نسلوں میں پشتیں ایسی تھیں جو معززین کی پشتیں سمجھی جاتی تھیں۔ان کے خون میں معزز خون شامل تھا۔ان کی رگوں میں معزز خون دوڑ رہا تھا۔اس شان کے وہ لوگ تھے۔اگر چہ ان سے بھی حسن سلوک تھا۔مگر جب محمود کی ایاز پر نظریں پڑتی تھیں تو محبت سے پگھل جایا کرتی تھیں۔کیفیت ہی اور ہوتی تھی۔وہ سمجھدار لوگ تھے۔جانتے تھے کہ کیا قصہ ہے۔وہ جلنے لگ جاتے تھے۔کچھ پیش نہیں جاتی تھی۔بڑی بڑی سکیمیں بناتے تھے۔لیکن کوئی بس نہیں چلتا تھا۔محمود کو بدظن کرنے کے لئے انہوں نے یہاں تک بھی کوششیں کیں کہ ایک دفعہ ایاز کے متعلق مشہور کر دیا کہ یہ رات کو چھپ کر کسی جگہ جاتا ہے۔بادشاہ سے کہا۔آپ تو سمجھتے ہیں بڑا دیانت دار ہے مگر ہے اتنا بد دیانت کہ ملک کی ساری دولت سمیٹ سمیٹ کر ایک جگہ چھپائے جا رہا ہے۔اگر چھاپہ مار کر پتہ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی مدد کرتے ہیں۔آپ کو ساتھ لے جائیں گے۔یعنی بغض تو ہر وقت سکیمیں سوچتا ہے کہ کس طرح اس کو نیچا دکھاؤں۔چنانچہ انہوں نے سکیم بنائی۔ایاز واقعہ چھپ کر کہیں جایا کرتا تھا اور اس کمرے میں جہاں وہ جانتا تھا بڑے بڑے بھاری تالے پڑے ہوتے تھے۔کسی اور کی جرات نہیں تھی۔پہرے تھے۔کوئی اور داخل نہیں ہوسکتا تھا۔تو بادشاہ نے کہا۔چلو میں چلتا ہوں۔جو آزمائش چاہتے ہوئیں اُس میں اُس کو ڈالنے کے لئے