مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 605

605 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہے اور فرمایا ہے کہ دنیا کو اس کی ضرورت ہے اور ساری دنیا میں اگر کسی امت نے جہاد کرنا ہے کہ وہ معروف کی طرف بلائے اور منکر سے روکے تو تم ہوائے امت محمدیہ ! جن کے سپرد یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ۔اس کے ساتھ تُومِنُونَ“ کی شرط لگا دی گئی ہے۔اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ایسا کرو ورنہ بہت سے آدمی ایسے بھی ملتے ہیں جو نیک نصیحت بھی کرتے ہیں برائی سے روکتے بھی ہیں مگر جن کا خدا پر ایمان نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کی کوشش ایک طبعی فطری نرم دلی کی وجہ سے اس تحریک کی وجہ سے ہے جوان کے ماں باپ نے ان کو سکھائی مگر اللہ نہیں ہوا کرتی۔اللہ کی خاطر اگر کچھ کرو گے تو پھر خدا مددگار ہو گا اور اس کی جزا مرنے کے بعد بھی عطا فرمائے گا۔پس تُؤْمِنُونَ کی شرط کولازم رکھیں۔اس کے بغیر یہ نیکی ضائع ہوسکتی ہے اور بہت سے اچھے لوگ ہمیں دکھائی دیتے ہیں جن کی نیکیاں اسی طرح ضائع ہو جاتیں ہیں۔ان کی نیکی کے امتحان کا جب وقت آتا ہے تو وہ اس امتحان میں ناکام ہو جایا کرتے ہیں۔یہ ایسا مضمون ہے جو پچھلے چند خطبات کے اندر میں نے بڑی تفصیل سے کھول کر بیان کیا تھا، اسے دہراؤں گا نہیں مگر اتنی بات یاد رکھیں کہ ایمان باللہ کا نیک تعلیم سے اور برائی سے روکنے سے بہت گہرا تعلق ہے۔اگر خدا کی خاطر آپ یہ کام کر رہے ہوں گے تو اس کے نتیجے میں اگر کسی کو برائی سے روکیں اور وہ ناراض ہو اور وہ کہے کہ جاؤ جاؤ اپنا کام کرو تو اس صورت میں بھی آپ کی دل شکنی اس حد تک ہو ہی نہیں سکتی کہ اس کام سے رک جائیں۔کیونکہ آپ نے یہ کام اللہ کی خاطر کیا ہے۔یہی نمونہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمیں دکھائی دیتا ہے۔تمام عمر بنی نوع انسان کو بھلائیوں کی طرف بلایا اور برائیوں سے روکا۔لیکن آپ کے پہلے مخاطب جو اہل مکہ تھے اور اہل عرب تھے انہوں نے اس پیاری اور اچھی تعلیم کو بہت بری نظر سے دیکھا۔وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام ایمان کی وجہ سے اللہ کی خاطر کرتے تھے اور یہ انسانوں کی عادت ہے بگڑی ہوئی عادت ہے کہ خدا کے سوا کسی نام سے کام شروع کرو اس کی مخالفت نہیں کرتے مگر جب اللہ کے نام سے کام شروع کرو تو ضرور مخالفت کرتے ہیں اور اس وقت سہارا بھی صرف اللہ ہی دیتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رستے میں دیکھو کتنی روکیں ڈالی گئیں۔نیکی کی تعلیم دے رہے تھے ، بھلائی کی طرف بلا رہے تھے، بری باتوں سے روک رہے تھے لیکن کس طرح عرب مخالفت میں تلواریں لے کر آپ پر چڑھ دوڑے۔ایسی صورت میں تُؤْمِنُونَ بِاللہ آپ کا سہارا ہے۔جس اللہ کی خاطر تم یہ کام کرو گے وہ ذمہ دار ہے کہ تمہاری حفاظت فرمائے۔وہ ذمہ دار ہے کہ تمہیں دل شکنی سے اس حد تک رو کے کہ