مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 581 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 581

مشعل راه جلد سوم 581 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی وقت بیدار ہو جاتے ہیں۔پانی پہ بیٹھنے والے پرندے ہیں ان کو پتہ نہیں مچھلی کہاں ہے۔ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ رزق کے سامان فرمائے ہیں بلکہ سامان حاصل کرنے کے ذریعے بھی بیان فرمائے ہیں۔ان کے اندر ودیعت کر دیئے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک جھیل پہ Seagulls اڑ کے اتر رہی تھیں بار بار ایک جگہ۔میں نے ساتھ مسافروں کو سمجھایا۔میں نے کہا دیکھو یہ Seagulls جو دیکھ رہی ہیں وہ تمہیں دکھائی نہیں دے رہا۔تم ڈھونڈ رہے ہو، مچھلیوں کے لئے راڈیں پکڑی ہوئی ہیں اپنی، کہ کہاں مچھلیاں ہیں اور کچھ پتہ نہیں۔لیکن ان کو خدا تعالیٰ نے نہ صرف وہ آنکھ دی ہے جو پہچانتی ہے مچھلیوں کو بلکہ جب ان پر گرتی ہیں تو بعینہ نشانے پر گرتی ہیں اور دیکھو جو بھی نیچے جاتی ہے کچھ اٹھا کر اوپر نکلتی ہے۔کیسا کیسا قدرت نے رزق کا سامان مقرر فرمایا ہے۔تم بھول جاتے ہو اس بات کو کہ جو ناشتہ تم کر رہے ہو، جو کھانا تم کھا رہے ہو اس کے لئے خدا نے قانونِ قدرت میں کتنی دیر سے سامان بنا رکھے ہیں۔تو وہ ماں باپ جو تمہیں کوئی اچھا ناشتہ دیتے ہیں یا کوئی دوست دعوت کرتے ہیں۔کسی کو چائنیز کھانا پسند ہے تو ہوٹل میں لے جاتے ہیں۔دیکھو کتنا دل چاہتا ہے ان کا شکریہ ادا کرنے کو اور جتنا شکر یہ ادا کرتے ہو تمہیں بھی مزہ آتا ہے۔جس کا شکر یہ ادا ہورہا ہے وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے خرچ کیا تھا۔اس کو خرچ میں مزہ آنے لگتا ہے۔تو تم نے کبھی سوچا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے سارے سامان کر رکھے ہیں اور وہ نہ کرے تو کچھ بھی باقی نہ رہے۔ایک پانی پر ہی غور کر کے دیکھ لو کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ بندوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر ہم پانی کو گہرائی میں لے جائیں تو کون ہے جو اسے نکال سکے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب خشک موسم آتے ہیں تو پانی نیچے اترنے لگتے ہیں۔جب نیچے اترنے لگتا ہے تو کوئی دنیا کی طاقت بڑی سے بڑی طاقت بھی ہوا تنا خرچ کر ہی نہیں سکتی کہ اسی پانی کو اٹھا کر اس سے اپنے رزق کے سامان بھی پیدا کرے اور پیاس بھی بجھائے۔وہ اتر تے اتر تے اس مقام تک پہنچتا ہے کہ اس کو اوپر آنا بہت مہنگا ہو جاتا ہے اور پھر غائب بھی ہو جایا کرتا ہے۔تو یہ تفصیل ہے جو رزق سے تعلق رکھتی ہے۔اس ایک ناشتے کے حوالے سے آپ رفتہ رفتہ بچوں کو ایسی باتیں بتا سکتے ہیں جو قانون قدرت میں ہر جگہ دکھائی دیتی ہیں۔ان کے لئے دلائل کی ضرورت نہیں ہے لیکن ان کو سمجھانا ضروری ہے۔وہ سمجھیں اور ان کو بتائیں کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے سارے سامان کئے ہوئے ہیں اور خود غائب ہو گیا ہے۔تم اسے ڈھونڈ واپنے تصور میں اور اس کا شکریہ ادا کرو۔پھر تمہیں لذت آئے گی کہ شکریہ ہوتا کیا ہے اور جب تم شکریہ ادا کرو گے تو وہ خدا تم پر اور زیادہ مہربان ہوگا۔