مشعل راہ جلد سوم — Page 552
552 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم جرمن نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ میں یہاں پرانے لوگوں اور نئے لوگوں کے درمیان ایک فرق دیکھ رہا ہوں اور ان کے درمیان ایک Gap جس کو انگریزی میں Generation Gap کہا جاتا ہے یہاں بھی انہوں نے یہی لفظ استعمال کیا کہ نسلوں کا فرق ایسا پڑ گیا ہے کہ گویا درمیان میں ایک فصیل حائل ہوگئی ہے۔پہلی نسل کا دوسری نسل سے تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ان کو جو میں نے بتایا جو کچھ کہا اس کا مختصر ذکر میں بعد میں بھی کروں گا لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ، دیکھنے والی آنکھ نے باہر سے یہ محسوس کیا اور توحید کے قیام کے خلاف ہے یہ نسلوں کا فرق ہونا۔یعنی ایسا فرق جو ایک نسل کی خوبیوں کو دوسری نسل سے کاٹ دیتا ہے مگر ایک نسل کی برائیوں کو دوسری نسل سے کاٹنا توحید کے خلاف نہیں ہے کیونکہ ہر نیکی تو حید ہے۔ہر بدی اور ہر جھوٹ غیر اللہ ہے۔پس مذہب کی دنیا میں یہ اس قسم کا انگریزی محاورہ نہیں پایا جاتا کہ ایک نسل کا دوسری نسل سے کوئی Gap نہ ہو، کوئی جدائی نہ ہو۔اگر یہ ہوتا تو پھر انبیاء ہی پیدا نہ ہوتے۔دیکھو انبیاء جدائیاں پیدا کرتے ہیں اور بعض دفعہ ان کا جدائیاں پیدا کر نادشمن کے لئے کئی قسم کے شبہات پیدا کر دیا کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں کیسے لوگ آئے ہیں جنہوں نے ہمیں اپنے پہلوں سے کاٹ دیا ہے۔انبیاء بدیوں کو کاٹنے والے ہوتے ہیں پس یا درکھو کہ تو حید جہاں جوڑتی ہے وہاں کاٹتی بھی ہے اور محض فرضی نعرہ بازی توحید کا کام نہیں ہے۔چنانچہ سب انبیاء پر اُن کی قوموں نے جو بڑے بڑے اعتراض کئے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تم تو ہمیں اپنے آباؤ اجداد سے کاٹ رہے ہو۔چنانچہ بعض دفعہ Bosnians کی میٹنگ میں بعینہ یہی سوال اٹھا کہ تم احمدیت لے کر کیا آئے ہو۔کیا ہماری فوجوں ، ہمارے بڑوں ، ہمارے آباؤ اجداد سے کاٹ کر ہمیں الگ کر دو گے؟ ان کو میرا یہی پیغام ہے جو انبیاء نے اپنی قوم کو دیا تھا کہ دیکھو ہم تمہیں غلط باتوں سے کاٹ رہے ہیں نیکیوں سے نہیں کاٹ رہے۔تمہیں کس نے بتایا ہے کہ تمہارے ماں باپ ہمیشہ سچ ہی بولا کرتے تھے۔تمہیں کس نے کہا کہ تمہارے ماں باپ کچی تو حید پر قائم تھے۔تم یہ دیکھو کہ ہم کن باتوں سے کاٹ رہے ہیں اور کن باتوں کو جوڑ رہے ہیں۔جن باتوں کو کاٹنا مقصود ہے ان باتوں کو ہم کاٹ رہے ہیں۔بدیوں کو کاٹ رہے ہیں، جھوٹ کو کاٹ رہے ہیں فسق و فجور کو کاٹ رہے ہیں، منافقت کو کاٹ رہے ہیں ،سوسائٹی کو سیدھا اور پاک اور صاف کر رہے ہیں، تکبر سے پاک کر رہے ہیں، شرک سے پاک کر رہے ہیں، ایک دوسرے پر تعلمی کرنے سے اور ایک دوسرے پر ظلم سے پاک کر رہے ہیں، اگر تم یہ کہتے ہو کہ یہ کاٹنا برا ہے تو پھر تمہاری بڑی حماقت