مشعل راہ جلد سوم — Page 533
مشعل راه جلد سوم 533 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضرت خلیفہ مسیح الرابع حمہ اللہ تعلی نے تشہد تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔رصلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آگے قدم بڑھانا ہے S۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ جوغفلت کی حالت ہے خاص طور پر اس کو پیش نظر رکھ کر اپنی اکائیوں اور دہائیوں کا حساب تولے کے دیکھیں۔اگر آپ اس پہلو سے حساب لیتے ہیں جیسے کہ میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لمحے لمحے پرنگران تھے اور یہ نگرانی اتنی کامل تھی اور اتنی مستقل تھی کہ آپ کو تمام بنی نوع انسان پر شہید بنادیا گیا۔پہلے شاہد جس کا میں پچھلے خطبے میں ذکر کر چکا ہوں پھر شہید کے متعلق آپ کی گواہی مانی جائے گی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لمحے لمحے کا حساب لیا ہے اس لئے آپ اس لائق ہیں کہ آپ کی کسوٹی پر دوسرے پر کھے جائیں۔فرمایا جب تمام انبیاء کو قیامت کے دن اپنی اپنی قوموں پر شہید بنا کے لایا جائے گا تو اے اللہ کے رسول تجھے ان تمام انبیا پر شہید بنا کر لایا جائے گا۔ان کی امتوں کے اعمال نبیوں کے اعمال کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے اور نبیوں کے اعمال تیری کسوٹی پر پرکھے جائیں گے۔یہ وہ رسول ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن کی غلامی میں ہم نے قدم آگے بڑھانے ہیں اور طریق بھی آپ نے ہمیں سمجھا دیئے اور قرآن نے یہ مضمون خوب کھول دیا کہ غفلت کی حالت میں گزرے ہوئے لمحے تمہارے کسی کام کے نہیں ہیں اور وہ جو گناہ پیدا کرتے ہیں ان گناہوں کے تم ذمہ دار قرار دیے جاؤ گے اور غفلت کی حالت میں اگر نمازیں پڑھنے کی اجازت نہیں۔تو انسان جو نمازیں پڑھتے ہوئے اکثر غفلتوں میں ڈوبارہتا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ یہ نماز بھی ایسی ہے جس میں رس نہیں پیدا ہوا اور زور لگانا چاہیے کہ کسی طرح یہ غفلت کی حالت جاتی رہے۔تو ایک مستقل جد و جہد ہے اور اس کے نتیجے میں اگر قدم زیادہ تیز رفتاری سے آگے نہ بڑھے تو کچھ نہ کچھ آگے بڑھنا چاہیے۔یہ وہ موازنہ ہے جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ اپنے بہی کھاتے کھولو اور دیکھو کیا ہوا ہے۔تو پچھلے