مشعل راہ جلد سوم — Page 488
مشعل راه جلد سوم 488 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی انہیں وہیں چھوڑ آتے ، وہیں دفن کر کے آتے۔شکوے تو یہ ہیں کہ ہماری قوم نے ہم سے اچھا سلوک نہیں کیا۔شکوے تو یہ ہیں کہ ہماری قوم نے ہم سے نا انصافی کا سلوک اور ظلم کا برتاؤ کیا اور شکوے تو یہ ہیں کہ ہم وہاں کی بعض بدیوں سے تنگ آکر بھاگ رہے ہیں اور کیا اس بھاگنے کے وقت آپ کو یہ یاد نہیں تھا کہ کس چیز سے بھاگ رہے ہیں اور کیا یہ آپ کو خیال نہیں آیا کہ وہی بدیاں آپ کی گٹھڑیوں میں بھی بند ہیں۔اگر بدیوں سے بھاگے تھے تو کیا بدیوں کی گٹھڑیاں ہی اٹھا کر بھا گنا تھا۔ہجرت کے تقاضے دیکھیں دنیا میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا بعض تو میں خیال رکھتی ہیں کہ باہر سے ان کے ملک میں داخل نہ ہوں لیکن وہ نظر آنے والی باتیں ہیں جن کو وہ روک سکتی ہیں۔جب میں آسٹریلیا گیا تو وہاں خاص اس نقطۂ نگاہ سے سب مسافروں کی تلاشی لی گئی کہ کوئی باہر کا پودا تو نہیں لے آئے جس میں کوئی ایسی بیماری ہو جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کے پودوں اور نباتات پر بھی بُرا اثر پڑے۔کوئی پکی ہوئی کھانے کی چیز تو ایسی نہیں جس میں ایسی پھپھوندی آگئی ہو جس کے نتیجے میں ایک نئی قسم کی پھپھوندی ہمارے ملک میں داخل ہو جائے۔اس قسم کی کچھ پابندیاں امریکہ میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن یہ وہ چیزیں ہیں جو نظر آتی ہیں اور جہاں تک ان لوگوں کی طاقت ہے وہ ان کو روک سکتے ہیں۔مگر روحانی بدیاں اور اخلاقی بدیاں دوسروں کو دکھائی نہیں دیتیں۔متقی وہ ہوتا ہے جو اپنی بدیوں کو خود اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔پس اگر آپ متقی ہوں اور تقوی کے ساتھ کسی ایک ملک سے ہجرت کریں اور دوسرے ملک میں جائیں تو خصوصیت کے ساتھ اس ہجرت کے موقع پر آپ کے دل میں یہ خیال آنا چاہیے کہ بعض بدیاں مجھے یہیں دفن کر کے جانا چاہیے، بعض اچھی چیزیں مجھے ساتھ لے کر جانا چاہیئے۔ہجرت کے وقت انسان ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ اچھا اور ستھرا سامان ساتھ ہو بلکہ ہر سفر میں یہی کوشش ہوتی ہے۔کبھی آپ نے سفر کے دوران یہ تو نہیں کیا ہو گا کہ سڑی کسی چیز میں اٹھا کر آپ سفر کے لئے زادراہ تیار کر رہے ہوں۔ہمیشہ پرانے کپڑوں کو ایک طرف کرتے ہیں اچھے خوبصورت کپڑے ساتھ لیتے ہیں۔اگر کھانا بھی ساتھ کچھ رکھنا ہے تو اچھا صاف ستھرا کھانا ساتھ لے کر چلتے ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سفر کے کچھ تقاضے ہوا کرتے ہیں۔ہجرت کے تقاضے اس سے بہت بڑھ کے ہیں اور وہ ہجرت جو دین اور خدا کی خاطر اختیار کی جاتی ہے اس کے تقاضوں کا معیار تو بہت بلند ہے۔پس چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان