مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 454

454 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم امت کا خوف ، ان کی بیماریوں کا خوف ان کے گناہوں کے نیچے دب جانے کا خوف۔۔۔غیروں کے اوپر ان کی ہلاکت کا خوف، بے شمار خوف تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لاحق تھے۔تو اس کا کیا مطلب ہے۔عَلَيْهِمُ کا لفظ اس کا مطلب آپ کو سمجھائے گا۔اَلَا اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمُ يَحْزَنُونَ۔کہ کوئی خوف ان پر غالب نہیں آسکتا۔خوف آئیں بھی تو بے حقیقت دکھائی دیتے ہیں ان کو ، کیونکہ وہ خدا کے ساتھ رہتے ہیں۔چنانچہ حزن بھی اسی طرح در پیش تو رہتے ہیں مگران پر غلبہ نہیں پا سکتے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غار ثور میں پناہ لی تو آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق بھی تھے۔انہوں نے فکر کا اظہار کیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ( التوبه: 40 ) - حزن نہ کر خدا ہمارے ساتھ ہے۔پس جب تک خدا ساتھ نہ ہو زن سے نجات ممکن ہی نہیں۔یہی راز ہے حزن مٹانے کا۔دنیا سے محرومی کا غم صرف اس صورت میں مٹ سکتا ہے کہ دنیا سے بہتر چیز آپ کے پاس موجود ہو۔ایک بہت امیر آدمی ہو اس کا تھوڑا سا نقصان ہو جائے معمولی ، وہ کہتا ہے بعض دفعہ کہ پرواہ نہیں۔ٹھیک ہے چھوڑ دو اس کو لیکن جس کے پاس اور کچھ بھی نہ ہو وہ تو مارا گیا۔پس جس کے پاس خدا ہو اس کو حزن مغلوب نہیں کیا کرتا ہے۔جس کے ساتھ خدا ہو اس پر کوئی خوف غالب نہیں آیا کرتا۔قرآن کریم میں یہ مضمون دو طریق سے بیان ہوا ہے۔ایک نسبتاً ابتدائی سفر کرنے والوں پر اطلاق پاتا ہے ایک ان پر جو اس مضمون میں آگے بڑھ جاتے ہیں اور خدا کے بہت قریب ہو جاتے ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ فرمایا: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدہ :31) - کہ وہ لوگ جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر اس پر استقامت کرتے ہیں۔ان کے متعلق فرمایا ان پر فرشتے مسلسل نازل ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کو یہ کہتے ہیں کہ غم نہ کر و غم نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور خوش ہو جاؤ کیونکہ خدا نے تمہیں جنت کی بشارتیں دی ہیں پس یہ مومن کی ابتدائی حالت ہے۔پہلے رَبُّنَا اللهُ۔اللہ کو اپنا رب بنانا پھر اس سلسلے میں جتنے ابتلاء آتے ہیں، ان کا مقابلہ کرنا ، ثابت قدم رہنا، غیر اللہ کی طرف نہ جھکنا۔اس منزل پر خدا فرماتا ہے کہ فرشتے آکر انہیں تسلیاں دیتے ہیں، سہارے دیتے ہیں کہ غم نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔پھر ایک اور اس سے اگلا مقام ہے۔وہ ہے اولیاء اللہ والا مقام۔اَلَا اِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا م يَحْزَنُونَ۔فرشتوں کے نزول کا سوال نہیں رہتا پھر ، خدا اُن کے ساتھ ہو جاتا ہے۔چنانچہ إِنَّ اللهَ مَعَنَا نے اس مضمون کو کھول دیا کہ کیوں ان پر کوئی غم نہیں ہوتا۔اس لئے یہ بہت سی منازل ہیں جو آپ کو طے