مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 425

425 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم واقفین سے ہی بیا ہی جائیں ورنہ غیر واقفین کے ساتھ ان کی زندگی مشکل گزرے گی اور مزاج میں بعض دفعہ ایسی دوری ہو سکتی ہے کہ ایک واقف زندگی بچی کا اپنے غیر واقف خاوند کے ساتھ مذہب میں اسکی کم دلچسپی کی وجہ سے گزارا نہ ہو اور واقفین کے ساتھ شادی کے نتیجے میں بعض دوسرے مسائل اسکو در پیش ہو سکتے ہیں۔اگر وہ امیر گھرانے کی بچی ہے۔اسکی پرورش ناز و نعم میں ہے اور اعلیٰ معیار کی زندگی گزار رہی ہے تو جب تک شروع ہی سے اسے اس بات کے لئے ذہنی طور پر آمادہ نہ کیا جائے کہ وہ سادہ سخت زندگی اور مشقت کی زندگی برداشت کر سکے اور یہ سلیقہ نہ سکھایا جائے کہ تھوڑے پر بھی انسان راضی ہوسکتا ہے اور تھوڑے پر بھی سلیقے کے ساتھ انسان زندہ رہ سکتا ہے۔پس ایسی لڑکیاں جن کو بچپن سے مطالبوں کی عادت ہوتی ہے وہ جب واقفین زندگی کے گھروں میں جاتی ہیں تو انکے لئے بھی جہنم پیدا کرتی ہیں اور اپنے لئے بھی۔مطالبے میں فی ذاتہ کوئی نقص نہیں لیکن اگر مطالبہ توفیق سے بڑھ کر ہو تو پھر خواہ خاوند سے ہو یا ماں باپ سے یا دوستوں سے تو زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہمیں کیا خوبصورت سبق دیا جب فرمایا۔لَا يُكَلِّفُ الله نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ خدا کسی کی توفیق سے بڑھ کر اس سے مطالبہ نہیں کرتا۔تو بندوں کا کیا حق ہے کہ توفیق سے بڑھ کر مطالبے کر یں۔پس واقفین زندگی کی بیویوں کے لئے یا واقفین زندگی لڑکیوں کے لئے ضروری ہے کہ یہ سلیقہ سیکھیں کہ کسی سے اسکی توفیق سے بڑھ کر نہ توقع رکھیں، نہ مطالبہ کریں اور قناعت کے ساتھ کم پر راضی رہنا سیکھ لیں۔اس ضمن میں ایک اہم بات جو بتانی چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود نے واقفین کی تحریک کے ساتھ ایک یہ بھی تحریک فرمائی کہ امیر گھروں کے بچوں کے باقی افراد کو یہ قربانی کرنی چاہیے کہ اسکے وقف کی وجہ سے اسکے لئے خصوصیت کے ساتھ کچھ مالی مراعات مہیا کریں اور یہ سمجھیں کہ جتنا مالی لحاظ سے ہم اسکو بے نیاز بنائیں گے اتنا بہتر رنگ میں وہ قومی ذمہ داریوں کی امانت کا حق ادا کر سکے گا۔اس نصیحت کا اطلاق صرف امیر گھرانوں پر نہیں بلکہ غریب گھرانوں پر بھی ہوتا ہے۔ہر واقف زندگی گھر کو یعنی ہر گھر جس میں کوئی واقف زندگی ہے آج ہی سے یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ خدا ہمیں جس پر رکھے گا ہم اپنے واقف زندگی تعلق والے کو اس سے کم معیار پر نہیں رہنے دیں گے۔یعنی جماعت کے مطالبے کی بجائے بھائی اور بہنیں یا ماں باپ اگر زندہ ہوں اور توفیق رکھتے ہوں یا دیگر قریبی مل کر یہ ایسا نظام بنائیں گے کہ واقف زندگی بچہ اپنے زندگی کے معیار میں اپنے گھر والوں کے ماحول اور انکے معیار سے کم تر نہ رہے۔چنانچہ ایسے بچے جب زندگی کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں تو کسی قسم کے (Inferiority Complex) یعنی احساس کمتری کا شکار نہیں رہتے اور امانت کا حق زیادہ بہتر ادا کر سکتے ہیں۔جہاں تک بچیوں کی تعلیم کا تعلق ہے اس