مشعل راہ جلد سوم — Page 403
403 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اگر خدانخواستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے وقف کا اہل نہیں ہے تو ان کو دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہیے کہ میں نے تو اپنی صاف نیت سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بد قسمتی سے اس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں۔اگر ان کے باوجود جماعت اس کو لینے کے لئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں، ورنہ اس وقف کو منسوخ کر دیا جائے۔پس اس طریق پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اب ہمیں آئندہ ان واقفین نو کی تربیت کرنی ہے۔بچوں میں اخلاق حسنہ کی آبیاری کی اہمیت جہاں تک اخلاق حسنہ کا تعلق ہے اس سلسلہ میں جو صفات جماعت میں نظر آنی چاہئیں وہی صفات واقفین میں بھی نظر آنی چاہئیں بلکہ اُن میں وہ بدرجہ اولی نظر آنی چاہئیں۔ان صفات حسنہ یا اخلاق سے متعلق میں مختلف خطبات میں آپ کے سامنے مختلف پروگرام رکھتا رہا ہوں۔ان سب کو ان بچوں کی تربیت میں خصوصیت سے پیش نظر رکھیں۔خلاصہ ہر واقف زندگی بچہ جو وقف نو میں شامل ہے بچپن سے ہی اس کو بیچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہونی چاہیے اور یہ نفرت اس کو گویا ماں کے دودھ میں ملنی چاہیے۔جس طرح Radiation کسی چیز کے اندر سرایت کرتی ہے اس طرح پرورش کرنے والی باپ کی بانہوں میں سچائی اس بچہ کے دل میں ڈوبنی چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو پہلے سے بہت بڑھ کر سچا ہونا پڑے گا۔ضروری نہیں ہے کہ سب واقفین زندگی کے والدین سچائی کے اس اعلیٰ معیار پر قائم ہوں جو اعلیٰ درجہ کے مومنوں کے لئے ضروری ہے۔اس لئے اب ان بچوں کی خاطر ان کو اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی اور پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط کے ساتھ گھر میں گفتگو کا انداز اپنانا ہوگا اور احتیاط کرنی ہوگی کہ لغو باتوں کے طور پر یا مذاق کے طور پر بھی وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔کیونکہ یہ خدا کی مقدس امانت اب آپ کے گھر میں پل رہی ہے اور اس مقدس امانت کے کچھ تقاضے ہیں جن کو بہر حال آپ نے پورا کرنا ہے۔اس لئے ایسے گھروں کے ماحول سچائی کے لحاظ سے نہایت صاف ستھرے اور پاکیزہ ہو جانے چاہئیں۔قناعت کے متعلق میں نے کہا تھا، اس کا واقفین سے بڑا گہرا تعلق ہے۔بچپن ہی سے ان بچوں کو قانع بنانا چاہیے اور حرص و ہوا سے بے رغبتی پیدا کرنی چاہیے۔عقل اور فہم کے ساتھ اگر والدین شروع سے تربیت کریں تو ایسا ہونا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔غرض دیانت اور امانت کے اعلیٰ مقام تک ان بچوں کو پہنچانا ضروری ہے۔