مشعل راہ جلد سوم — Page 381
381 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہے، اس وقت 114 سے زائد ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ قائم ہو چکی ہے۔ہمیں آج کے بعد کا بقیہ سال خصوصیت سے نماز کو قائم کرنے کی کوششوں میں صرف کرنا چاہیے۔تم میں سے ہر کوئی پوچھا جائے گا۔یہ درست ہے کہ خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں بھی ہیں انصار اللہ کی بھی ذمہ داریاں ہیں اور نظام جماعت کی من حیث الجماعت بھی ذمہ داریاں ہیں لیکن حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تربیت کا ہمیں گر سکھایا وہ یہ نہیں تھا کہ تم اپنے نظام کے اوپر اپنے تربیت کے کاموں کا انحصار کرو بلکہ فرمایا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ که خبر دار تم میں سے ہر ایک سے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔مسلمان اگر یا درکھتے تو کبھی بھی وہ انحطاط پذیر نہیں ہو سکتے تھے۔ہر فرد بشر جو ایک گھر رکھتا ہے یا گھر سے بڑھ کر اپنے معاشرے میں کوئی حیثیت رکھتا ہے۔ایسے ہر شخص پر حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اطلاق پاتا ہے اور کیسے خوبصورت انداز میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا۔فرمایا تم میں سے ہر ایک ایک گڈریا ہے، مالک نہیں ہے راعٍ کا لفظ اُس گڈریے کے متعلق استعمال ہوتا ہے جولوگوں کی بھیڑیں لے کر ان کو چرانے کے لئے باہر جاتا ہے۔تو یہ نہیں فرمایا کہ تم اپنی اولاد کے مالک ہو اور اپنی اولاد کے بارے میں تم پوچھے جاؤ گے یا جن لوگوں پر تمہارا اثر رسوخ ہے یا جس قوم میں تمہارا نفوذ ہے ان لوگوں یا اس قوم کے متعلق اس لئے پوچھے جاؤ گے کہ تم ان پر کوئی مالکانہ حقوق رکھتے ہو۔فرمایا ہر گز نہیں۔تم جس حیثیت میں بھی ہو۔ایک چھوٹے دائرے میں ایک مقام تمہیں نصیب ہوا ہے، تمہارا مقام ایک گڈریے کا سا مقام ہے اور جو کچھ تمہاری رعیت ہے جو کچھ تمہارے تابع فرمان لوگ ہیں یہ سارے خدا کی ملکیت ہیں۔خدا کی بھیڑیں ہیں اور جس طرح بھیڑوں کا مالک گڈریے سے ان کا حساب لیا کرتا ہے اور بعض دفعہ ایک ایک بھیڑ کو گن کر وصول کرتا ہے اور نقصان کے عذر قبول نہیں کرتا اسی طرح تم میں سے ہر ایک خدا کے حضور جواب دہ ہے۔تم اپنی اولاد کے بھی مالک نہیں۔یہ تمہارے سپر دامانتیں ہیں۔اس لئے سب سے اہم ذمہ داری خود گھر والے کی ہے اور پھر حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے تفصیل سے یہ ذکر بھی فرمایا کہ گھر کی مالکہ بھی اپنے دائرہ اختیار میں مسئولہ ہوگی اس سے بھی پوچھا جائے گا۔اور کلکم نے تو سارے بنی نوع انسان کو محیط کر لیا ہے۔کسی قسم کا کوئی انسان بھی اس فرمان کے دائرہ کار سے باہر نہیں رہا اس لئے یہی وہ بہترین گر ہے، یہی وہ بہترین ارشاد ہے جس کو سمجھنے کے بعد اور جس پر عمل کرنے کے بعد ہم فی الحقیقت زندہ رہنے کا سبق سیکھ سکتے ہیں۔اس لئے ہر وہ شخص جو کسی حیثیت سے کوئی اثر رکھتا ہے اُسے نماز کا نگران ہو جانا چاہیے۔ہر باپ کو اپنی