مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 367

367 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اٹھ کر آنکھیں ملتا ہوا کھانے کی میز پر آجائے اس کے لئے لازمی تھا کہ وہ ضرور پہلے نفل پڑھے۔لازمی ان معنوں میں کہ کبھی ایسا کرتے تھے اس نے یہی دیکھا تھا اور وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔بعض دفعہ بچے کی Late آنکھ کھلتی ہے یعنی وہ زیادہ دیر ہو جاتی ہے تو کھانا بھی جلدی میں کھاتا ہے لیکن قادیان کے بچے پھر تجد بھی جلدی میں پڑھتے تھے۔یہ نہیں کرتے تھے کہ اب تہجد پڑھنے کا وقت نہیں رہا صرف کھانا کھائیں بلکہ اگر کھانے کے لئے تھوڑا وقت ہے تو تہجد کے لئے بھی تھوڑا وقت تقسیم کر دیا کرتے تھے۔دونفل جس کو عام طور پر ٹکریں مارنا کہتے ہیں اس طرح کے نفل پڑھے اور اسی طرح کا کھانا کھایا یعنی دو لقمے جلدی جلدی کھالئے۔لیکن انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ روحانی غذا کی طرف بھی توجہ دیں اور جسمانی غذا کی طرف بھی توجہ دیں اور یہ انصاف ان کے اندر پایا جاتا تھا جو ان کو بچپن سے ماؤں نے دودھ میں پلایا ہوا تھا۔اس لئے وہ نسلیں جو قادیان میں پل کے بڑی ہوئیں ان میں تہجد اور رمضان کا چولی دامن کا ساتھ سمجھا جاتا تھا۔کوئی وہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بغیر تہجد پڑھے بھی روزہ ہوسکتا ہے۔ہاں کچھ ان میں سے ایسے بھی تھے جو تہجد کے وقت اٹھ نہیں سکتے تھے اور کچھ ایسے تھے جو صرف تجد نہیں پڑھنا چاہتے تھے بلکہ قرآن کریم کی تلاوت بھی سننا چاہتے تھے۔چنانچہ ایسے احباب کے لئے یا مردوزن کے لئے تراویح کا انتظام ہوا کرتا تھا۔نماز تراویح روحانی تربیت کا ایک اہم ذریع تراویح کے متعلق یہ روایت آتی ہے کہ تراویح کی نماز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جاری ہوئی اور اس کے متعلق بعض دفعہ بعد میں اعتراضات بھی ہوئے خصوصاً جو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔انہوں نے طعن زنی کے طور پر تراویح کو عمری سنت کہنا شروع کر دیا۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تراویح کی بنیاد خود حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پڑ چکی تھی۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں باجماعت نوافل پڑھانے شروع کئے۔صرف چند دن ایسا کیا اور اس کے بعد اس خیال سے کہ امت میں یہ فرض نہ سمجھ لیا جائے اس کو ترک فرما دیا۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ چوتھے یا پانچویں روز جب صحابہ رضی اللہ ھم پھر ا کٹھے ہوئے تو انہوں نے بلند آواز سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کی خاطر یا یہ خیال کر کے کہ کسی دوسرے کام میں مصروف ہوں گے ، صلوۃ صلوۃ بھی کہنا شروع کر دیا۔لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف نہیں لائے اور پھر دوسرے دن وضاحت فرمائی کہ میں عمداً نہیں آیا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ پھر بعد میں آنے والوں پر بہت بوجھ پڑ جائے گا، تکلیف مالا يطاق ہو