مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 32

32 مشعل راه جلد سوم ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ communication یعنی اخراج کی سزا قبول کر دیا تم ہمارے اندر رہو اور سچ بولنے سے باز رہو۔اس نے جواب دیا میں سچ بولنے سے باز نہیں آسکتا اور کہا آپ جو مذہبی آدمی ہیں۔آپ نے ایک مذہبی لفظ بولا ہے اس کا تلفظ غلط ہے۔میں تو یہاں تک سچ بولوں گا کہ آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اپنا تلفظ درست فرمائیں۔آپ کو بائبل کی اصطلاحوں کا تلفظ بھی نہیں آتا۔اس پر وہ یہودی راہنما اتنے مشتعل ہوئے کہ اس کی نہایت خطرناک Ex-communication یعنی اخراج کی سزا کے آرڈر جاری کر دیئے۔اس زمانہ میں یہودیت سے نکلنے کا مطلب یہ تھا کہ تمام دنیا میں یہ اعلان ہو جاتا تھا کہ اس کو ہماری ضمانت حاصل نہیں رہی۔اس سے اب جو چاہو سلوک کرو۔چنانچہ اسے انتہائی ظلموں کا نشانہ بنایا گیا۔44 سال کی عمر میں وہ مر گیا لیکن ایک قدم پیچھے نہیں ہٹا۔اس نے شدید مصیبتیں اٹھائیں لیکن سچائی کا جو جھنڈا اس نے ہاتھ میں پکڑا تھا اس کو تا دم آخر بلند رکھا۔پس ابتدائی منزل میں سچائی ، دیانت اور تقویٰ ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔ان کے نتیجہ میں جرات پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ یورپ کے سارے سائنسدانوں کی مثالیں بتا رہی ہیں۔آخر کسی سچائی کی خاطر آگ میں زندہ جل جانا کوئی معمولی بات تو نہیں لیکن وہ جلائے گئے اور جل گئے۔ایسے بھی سائنسدان ہوئے جن کو Guillotine کے اوپر چڑھا دیا گیا۔فرانس میں ایک ایسا ہی سائنسدان تھا جس نے سچائی کا اظہار کیا اور اس زمانہ میں بظاہر وہ معمولی معمولی باتیں تھیں لیکن چرچ نے اس کے خلاف بڑا شور ڈالا اور اس کو کہا تم باز آجاؤ ورنہ مذہب تمہاری ان بے ہودگیوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔اس نے کہا نہیں برداشت کر سکتا تو تم اپنا کام کرو میں اپنا کام کرتا ہوں۔تو اس کو Behead کیا گیا یعنی اس کا سر قلم کر دیا گیا۔اس پر ان کے ایک ہمعصر شاعر نے لکھا۔فرانسیسی نظم ہے۔اس میں ایک شعر ہے۔وہ کہتا ہے کہ صدیوں میں ایک سر پیدا ہوتا ہے۔اس کو چند لھوں میں اڑا دیا گیا۔اس صدی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے لیکن یہ ایک المیہ نہیں ہوا۔ایسے بیسیوں المیے ایک ایک یورپین ملک میں ہوئے ہیں۔غرض آپ (احمدی آرلیٹلٹس اور انجینئر ز ) کا مقام تو اس سے بہت بلند ہے۔آپ تو آج اُس سچائی کی نمائندے ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی ہے۔کسی عام سائنس دان کی سچائی نہیں۔اس سچائی کے نمائندے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی سچائی ہے۔اس لئے آپ کی جراتیں مختلف اور بلند ہونی چاہئیں۔آپ کے اخلاق بلند ہونے چاہئیں۔آپ کے اندر دیانت کے معیار بلند ہونے چاہئیں۔یہ چیزیں حاصل ہو جائیں تو آپ کو ایک روشنی