مشعل راہ جلد سوم — Page 334
334 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اسی قسم کی باتیں کی گئیں تھیں اور وہ لازما منافقین تھے۔اب بھی معاشرے میں جب خلیفہ وقت پر حملہ کیا جاتا ہے یا پہلے جب بھی کیا گیا ہمیشہ اسی طرح کیا جاتا ہے کہ اس کے اوپر ایک الزام کو تسلیم کر کے اس کی ایک وجہ جواز بیان کی جاتی ہے کہ فلاں خلیفہ وقت فلاں کی باتوں میں آگئے۔قادیان میں مجھے یاد ہے بچپن میں بڑے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور فتنہ پردازوں نے آغاز ہمیشہ نظارت امور عامه یا نظارت اصلاح وارشاد یا نظارت تعلیم پر حملہ سے کیا اور کہا کہ خلیفہ وقت کو تو پتہ ہی نہیں اس کے سامنے جھوٹی فائلیں پیش کی گئیں یا قضاء پر حملہ کیا اور کہا کہ دیکھو قضاء نے کتناظلم کیا ہے کہ خلیفہ وقت کے سامنے غلط معاملات پیش کر کے ان سے غلط فیصلے لے لئے۔قرآن کریم نے تو ہمیشہ کے لئے یہ باتیں پیش کر کے آپ کی راہنمائی فرما دی تھی آپ کی آنکھیں کھول دی تھیں آپ کے کان کھول دئے تھے اور بتایا تھا کہ اس طرح حملے ہوا کرتے ہیں ان حملوں سے باخبر ہو اور جو تمہارا منصب نہیں ہے اس منصب سے ہٹ کر تم نے کوئی بات نہیں سنی ، نہ کوئی بات کرنی ہے۔چنانچہ اگر آپ اپنے منصب اور دائرے میں رہیں تو پھر کوئی فتور پیدا نہیں ہو سکتا جو تفاوت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔اب اس معاملے میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے ، فلاں خلیفہ نے فلاں کی بات سن لی مولوی ابو العطاء صاحب مرحوم کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس کی بات سن لی ، میر داؤ داحمد کی بات سن لی ، فلاں کی سن لی، فلاں کی سن لی یا ناظر امور عامہ کی سن لی یا سید ولی اللہ شاہ صاحب کی بات سن لی یا قاضی کی بات سن لی تو سننے والے کا فرض تھا کہ اگر یہ بات ہے تو میں کون ہوں مجھے تم کیوں بتا رہے ہو میرا یہ منصب نہیں ہے کہ میں قضاء پر یا نظارت اصلاح وارشاد پر یاکسی اور نظارت پر محاکمہ کروں یا ان پر جج بن کر بیٹھ جاؤں اس لئے تم مجھے کیوں بتا رہے ہو۔تم اپنے منصب سے ہٹ چکے ہوا اور چاہتے ہو کہ میں بھی اپنے منصب سے ہٹ جاؤں۔تمہارا فرض ہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ خلیفہ وقت واقعہ معصوم ہے تو جن باتوں میں تم سمجھتے ہو کہ وہ آگئے ہیں تم خلیفہ وقت کو بتاؤ کہ تم ان باتوں میں نہ آؤ اس کو لکھ کر بھیجو اور تمہارے لئے دو ہی رستے ہیں یا تو پھر اس کے عدل پر حملہ کرو یہ نہ کہو کہ ناظر امور عامہ بد دیانت ہے پھر جرات کے ساتھ تقویٰ کے ساتھ یہ فیصلہ کرو جو بھی تمہیں تقویٰ نصیب ہو اس کے مطابق فیصلہ کرو کہ خلیفہ وقت جھوٹا ہے خلیفہ وقت بدیانت ہے اور اس کو چھوڑ دو۔اگر چھوڑ دو تب بھی رخنہ پیدا نہیں ہو گا لیکن جب تم تصادم کی راہ اختیار کرو گے تو تفاوت پیدا ہوگا اور تفاوت کے نتیجہ میں لاز مافتور ہوگا یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔اگر لوگ ہمیشہ یہ مسلک اختیار کرتے تو کبھی کوئی فتنہ پیدا نہ ہوتا کوئی فتنہ بھی سری نہیں اٹھا سکتا تھا۔آج بھی پاکستان میں بھی اور باہر بھی جہاں بھی مفتنی پیدا ہوتے ہیں وہ پہلا حملہ خلیفہ وقت