مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 308

308 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم نئے نئے آباد ہوئے ہیں۔کچھ یہیں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ہمیں سعید روحیں عطا کی ہیں۔ان میں ہمارا دین ابھی بالکل نیا ہے۔ہمارا دین ان معنوں میں نیا ہے۔جن معنوں میں جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے۔یعنی حسن و احسان کا سرچشمہ۔ایک ایسا دین جو کامل حسن رکھتا ہو۔اور کامل طور پر اپنے متبعین کو حسین بنانے کی طاقت بھی رکھتا ہو۔یہ دین ان لوگوں کیلئے بالکل نیا ہے۔وہ دین جس سے یہ متعارف ہیں وہ دین کی صدیوں سے بگڑی ہوئی صورت ہے۔جسے بگاڑنے میں بدقسمتی سے خود مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کچھ بد قسمتی سے ان کے علماء نے جو مستشرقین کہلاتے تھے، ایک افسوسناک کردار ادا کیا۔انہوں نے اپنی کتب میں، اپنے لٹریچر میں، اپنے اخبارات میں، ہر قسم کے علمی ذرائع اختیار کرتے ہوئے پہلے ہی سے ان کو ہمارے دین سے بہت حد تک بدظن کر رکھا تھا۔اور بالکل غلط شکل دین کی بنا کر ان کے سامنے پیش کی ہوئی تھی جس کی وجہ سے جب بعد ازاں اس نئے دور میں بعض اسلامی ممالک کی طرف سے یا بعض اسلامی تحریکات کی طرف سے کچھ اس سے ملتی جلتی حرکتیں ہونی شروع ہوئیں۔جو تصویر ان کے علماء نے ان کے سامنے پہلے ہی کھینچ رکھی تھی تو انہوں نے کامل طور پر یقین کر لیا کہ جو ہمارے بڑے، ہمارے صاحب علم کہا کرتے تھے وہ درست بات تھی اور یہ دین ایک جبر کا اور ایک استبداد کا مذہب ہے۔یہ تلوار کے زور سے دلوں کو جیتنے کا دعویٰ کرتا ہے یہ قوت بازو سے سروں کو ختم کرنے کے لئے پیدا ہو ا ہے اور انسانیت کو تاریک ماضی کی طرف لوٹانے کے لئے آیا ہے۔یہ دین ظلم جبر اور فساد کی تعلیم دیتا ہے۔غرضیکہ ہر وہ چیز جو اس نئی دنیا میں ماضی میں پیچھے رہ گئی تھی، وہ جبر واستبداد کی تمام کہا نیاں جو قصوں میں سنا کرتے تھے بدقسمتی سے اس کی کوئی نہ کوئی عملی صورت آج کی دنیا میں بعض مسلمان ممالک نے ان کے سامنے پیش کی۔چنانچہ ان کا دین حق کا تصور اتنا بگڑا ہوا ہے اتنا بھیانک ہے بسا اوقات یہ ہمارے دین کے نام سے بھی خوف کھاتے ہیں۔کہ جہاں بھی یہ دین داخل ہونا شروع ہوا اس کے پیچھے فتنہ و فساد ضرور داخل ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو ان یورپین ممالک میں جہاں ابھی احمدیت پوری طرح صحیح مذہب کو متعارف ہیں کرواسکی ، وقتیں پیش آتی ہیں۔آسٹریا میں مشکلات جب آسٹریا میں ہم نے مشن قائم کرنے کی کوشش کی تو تقریبا ڈیڑھ دو سال حکومت کو یہ اطمینان کرنے میں لگے کہ ہم اس قسم کے لوگ نہیں ہیں جو خنجر کے ساتھ اور تلوار کے ساتھ اور توپ و تفنگ کے ساتھ دلوں کو