مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 273

مشعل راه جلد سوم 273 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نکلتا ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اب ہم آزاد بھی ہیں اب ہمیں خدا نے توفیق بھی دے دی ہے اس لئے جو چاہیں کرتے پھریں اس لئے کئی قسم کی اخلاقی کمزوریاں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو جو بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں آپ اہمیت دیں اس لئے کہ یہ چھوٹی باتیں نہیں ہیں ( دین حق ) کی اس عظیم جنگ میں فتح وشکست کا فیصلہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہو جانا ہے۔اگر آپ ان کی طرف توجہ دیں اور ان کو اہمیت دیں اور بڑی سنجیدگی سے زبانیں سیکھیں اور بڑی سنجیدگی سے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں جن جرمن عورتوں سے آپ میں سے بعض نے شادیاں کی ہیں اگر شروع میں بد قسمتی سے یہ نیت بھی تھی کہ میں نے Asylum لینے کی خاطر یا وطنیت لینے کی خاطر شادی کی ہے تو اب استغفار کریں اور توبہ کریں ان سے حسنِ سلوک کریں ایسا حسن سلوک کریں کہ ان کا دل گواہی دے کہ (دین حق) سے زیادہ انسان کا کوئی محسن نہیں ہو سکتا۔اس کے برعکس میں یہ نظارے بھی دیکھتا ہوں کہ بعض پاکستانی شادیاں کرتے ہیں ان کے حقوق ادا نہیں کرتے ان کی وجہ سے وطنیت لے لیتے ہیں ان کے سہارے اس وطن میں رہنے کا حق حاصل کر لیتے ہیں اس وطن کی زمین کا نمک چاہتے ہیں اور پھر ان کا حق ادا نہیں کرتے۔ان سے بدسلوکیاں کرتے ہیں بعض دفعہ مارتے بھی ہیں بعض دفعہ زیادتیاں کرتے ہیں بعض دفعہ شرابیں پیتے ہیں اور باہر رہ جاتے ہیں۔آپ کہیں گے بہت کم تعداد ہے۔چاہے کم بھی ہو سفید کپڑے کا داغ تو ضرور ہے اور یہ ممکن نہیں کہ سفید کپڑے کا داغ نظر نہ آئے سفید کپڑا نظروں سے غائب ہو جاتا ہے اور داغ نمایاں حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔دیکھنے والے انگلیاں اٹھاتے ہیں۔یہ لوگ خود آپ کو اعتراض کا نشانہ بناتے ہیں کہتے ہیں کہ دیکھو یہ ( دین حق ) ہے کہنے کا کچھ اور ہے اور کرنے کا کچھ اور ہے اس طرح ان لوگوں نے ہم سے فائدے اٹھائے اور اس طرح بعد میں دھتکار دیا۔آپ کا تو فرض ہے کہ دوہری محبت کے ساتھ ، دوہری لگن کے ساتھ ، دوہرےاحساس ذمہ داری کے ساتھ ان قوموں کے حقوق ادا کریں اور ان کو یہ محسوس کرائیں کہ ہم آپ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ایسا کرنے میں اگر آپ کامیاب ہو جائیں تو ہر سال آپ کا نقشہ بدلنے لگے گا۔احمدیت ہر آئندہ سال کئی کئی منازل پر لی طرف آگے بڑھی ہوئی پائی جائے گی نہ کہ ہر دفعہ اسی مقام پر اور ہر دفعہ جرمن احمدیوں اور جرمن (مومنوں) کی تعداد میں اتنا نمایاں اضافہ ہو گا کہ خدا کے فضل کے ساتھ دیکھتے دیکھتے جماعت احمدیہ میں اکثریت جرمن احمدیوں کی بن جائے گی۔یہ ایک انتہائی ضروری امر ہے میں بار بار آپ کو دوبارہ اس طرف توجہ دلاتا ہوں سہ بارہ توجہ دلاتا ہوں کہ یورپ کو اگر آپ نے