مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 265

265 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بچے کو بھی ( مربی ) بنا پڑیگا کیونکہ دنیا کے پھیلنے کی رفتار آج اسلام کے پھیلنے کی رفتار سے بہت زیادہ تیز ہے اور اگر ہمارے مجاہدین جو ( دعوت الی اللہ ) کے میدان عمل میں کود چکے ہیں اگر صرف ان پر ہی انحصار کیا جائے تو ہمیں ہزار ہا سال چاہئیں دنیا کو فتح کرنے کے لئے بشرطیکہ دنیا کی آبادی آگے بڑھنا بند کر دے اور اگر دنیا اسی رفتار سے آگے بھاگتی چلی جائے تو پھر تو غالب کے اس مصرع کے مصداق قصہ ہوگا کہ میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے۔وہ کہتا ہے ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ ނ ہر قدم پر میری منزل کی دوری کا احساس پہلے سے آگے زیادہ بڑھتا چلا جا رہا ہے کیونکہ بیابان میری ہی رفتار سے آگے بھاگ رہا ہے۔پس اے دنیا کے بیابانوں کو چمنستانوں میں تبدیل کرنے کے دعوے دارو! کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ یہ دنیا کے بیابان تو تمہاری رفتار سے بھی بہت زیادہ تیزی سے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور مقابلہ تمہارے قدم پیچھے رہتے چلے جا رہے ہیں اس لئے اگر تم اپنے اس دعوے میں سنجیدہ ہو کہ ساری دنیا کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے لئے جو سچا دین ہے اور ایک ہی تنہا سچا دین ہے آج دنیا میں اس کے لئے فتح کرو گے اور تمام انسانیت کو ( دین حق ) کے امن بخش سائے میں لے آؤ گے تو پھر سنجیدگی سے غور کرو کہ اس دعوے کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے تم اپنے اندر کیا تبدیلی پیدا کر رہے ہو اور کس سنجیدگی کے ساتھ اس دعوے کی پیروی میں قدم آگے بڑھا رہے ہو۔میں جب جائزہ لیتا ہوں تو مجھے یہ نظر آتا ہے کہ ہمارے اکثر احمدی نوجوان ابھی تک اپنی زندگی کا اکثر حصہ بریکا رصرف کر رہے ہیں جیسا کہ حضرت مصلح موعود کا کلام آپ کے سامنے پڑھا گیا تھا ابھی تک ان کے ارادے چھوٹے ہیں، ابھی تک ان کی نگاہیں نیچی ہیں، ابھی تک ان کے مقصود بے معنی اور بے حقیقت ہیں۔دنیا کی چند نوکریاں، دنیا کی چند لذتیں بہت زیادہ نمایاں طور پر یہی ان کے سامنے ہیں اس وقت۔حالانکہ انسان کے لئے اپنے مقصد کو بلند تر کرنا کوئی مشکل نہیں بلند تر مقصد کی پیروی تو ضرور مشکل ہے لیکن مقصد کا بلند کرنا تو کچھ مشکل نہیں پہلے اپنے مقاصد تو بلند کریں کہ آپ نے ( دین حق ) کے مجاہد بن کر ساری دنیا کو ( دین حق) کے لئے فتح کرنا ہے اگر یہ مقصود آپ کا بن جائے تو پھر آئندہ عمل کے بہتر ہونے کی بھی توقع کی جاسکتی ہے لیکن اگر مقصود ہی یہ نہ ہو اس طرف توجہ ہی نہ پیدا ہو تو پھر ساری زندگی رائیگاں جائے گی اور بہت