مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 202

مشعل راه جلد سوم 202 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ میں سے ایک یہ ٹوپی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ٹوپی کے اوپر ضرور کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ہو۔یہ میرا مقصد نہیں۔میں کوئی حکم نہیں دے رہا لیکن ایک خیال ظاہر کر رہا ہوں یہ تجربہ بھی کیا جاسکتا ہے اور نہیں تو آپ کا جو بیج تھا جس پر کلمہ لکھا ہوتا تھا اس کو ساتھ پہننے کا رواج ہے۔میں نے دیکھا ہے پرانے زمانہ میں جب اطفال اجتماع پر آیا کرتے تھے تو اسی بیج کو وہ اپنی ٹوپی پر بھی ٹانک دیا کرتے تھے۔یا بعض دفعہ اپنی قمیص یا کوٹ کے اوپر لکھا کرتے تھے۔اچھے اخلاق اور قومی روایات کی حفاظت کریں پس یہ جو رواج ہیں یہ قوم کے اچھے اخلاق اور قومی روایات کی حفاظت کرتے ہیں۔اس لئے ان کو معمولی سمجھ کر بھلا نہیں دینا چاہیے ورنہ آج جو ننگے سر بچے بڑے ہو رہے ہیں اُن کے متعلق اس بات کا زیادہ احتمال ہے کہ وہ مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر کئی قسم کی خرابیوں کا شکار ہو جائیں۔پھر اگر مغربی تہذیب کہے گی کہ سرمنڈوانا شروع کرو اور اُسترے پھر واؤ اور Skin Head(سکن ہیڈ ) بن کر نکلو۔وہی لوگ ہیں جنہوں نے بڑے ہو کر سر مونڈھنے ہیں۔لیکن جن کو بچپن سے ٹوپی پہننے کی عادت ہوٹو پی اُن کی حفاظت کرے گی۔اور ایسے بچے مغربی تہذیب سے اول تو متاثر نہیں ہوں گے۔اگر ہوئے بھی تو بہت کم ہوں گے۔اس لئے یہ بہت اہم چیزیں ہیں۔ان کی طرف آپ کو بہت توجہ کرنی چاہیے۔ایک نصیحت۔ایک حقیقت اب ہم دُعا کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے احمدی بچوں کو عظیم کردار عطا کرے اور بڑے ہو کر ساری دنیا کی تربیت کی توفیق عطا فرمائے (اس موقع پر بچوں نے زور زور سے آمین کہنی شروع کر دی تو حضور نے فرمایا ) بچو! آہستہ دل میں آمین کہو۔خدا کوئی بہرہ یا گونگا تو نہیں ہے نعوذ باللہ من ذالک۔یا اُس کے کان خراب تو نہیں ہو گئے کہ جب تک آپ اُونچی آواز میں نہیں کہیں گے اُس کو سنائی نہیں دے گا۔بعض دفعہ اونچی آمین کہنے کے نتیجہ میں دل ساتھ حرکت ہی نہیں کر رہا ہوتا۔صرف زبان سے ہی آمین نکل رہی ہوتی ہے۔اس لئے آمین کا مطلب سمجھیں۔آمین کا مطلب ہے اے میرے اللہ ! میری اس دعا کو قبول فرما۔تو اس آمین کہنے میں تو عاجزی ہونی چاہیے۔مگر آپ کی آمین کہنے سے تو لگتا ہے کہ جس طرح آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے قبول کر لیا ہے۔اس لئے آپ دل میں آمین کہیں۔یہ خدا کی آواز ہے جو سب دنیا کی آوازوں