مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 200

مشعل راه جلد سوم ترقی کا راز 200 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی پس اگر خدانخواستہ احمدی بچوں نے جھوٹ بھی بولنا شروع کر دیا تو پھر اس قوم کو سنبھالے گا کون؟ پھر تو یہ قوم ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔کیونکہ یہ سچائی ہی ہے جو انسانی زندگی کے کام آتی ہے۔سچائی سے ہی دنیا بنتی ہے اور سچائی سے ہی دین بنتا ہے۔سچائی سے ہی مادی ترقیات نصیب ہوتی ہیں اور سچائی ہی کے ساتھ روحانی ترقیات نصیب ہوتی ہیں۔جھوٹ کے تو نہ یہاں قدم سکتے ہیں۔نہ وہاں قدم سکتے ہیں اس لئے اے بچو ! آپ کی دُنیاوی ترقی کا راز بھی اس بات میں مضمر ہے کہ آپ بچے ہو جائیں۔آپ کی دینی ترقی کا راز بھی اس بات میں ہے کہ آپ بچے احمدی بن جائیں اور سچ کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں اور جھوٹی بات کو سننا بھی برداشت نہ کریں۔اگر کوئی بچہ مذاق میں بھی جھوٹ بولتا ہے تو اُس کے جھوٹ پر بھی آپ بالکل نہ نہیں۔بلکہ حیرت سے دیکھیں اور اُسے کہیں۔یہ تم کیا بات کر رہے ہو۔یہ مذاق کا قصہ نہیں ہے۔مذاق کرنا ہے تو بچے مذاق کرو۔ایک دوسرے کو لطیفے سناؤ اور اس قسم کی باتیں کرو جن سے حاضر جوابی کا مظاہرہ ہوتا ہو۔جھوٹ بولنے سے مذاق کا کیا تعلق۔یہ تو گندگی ہے۔جہاں بھی جھوٹ دیکھیں وہاں اُس کو بائیں اور اُس کی حوصلہ شکنی کریں۔بلکہ اگر آپ کے ماں باپ میں یہ عادت ہے تو اُن کو بھی ادب سے کہیں کہ ابا امی آپ نے تو ہمیں سچائی سکھانی تھی۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں یا کیا کہ رہے ہیں؟ احمدی والدین ہو کر جھوٹ بول رہے ہیں۔یہ بات آپ کو بتی نہیں۔پس اگر سارے بچے سچ بولنے کی عادت ڈالیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ اُن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتنی نعمتیں اور کتنے فضل نصیب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان لوگوں ہی کو ملتا ہے جو بچے ہوں۔اگر آپ بچے بن جائیں گے تو اس بچپن کی عمر میں بھی آپ کو خدامل جائے گا۔اگر اس عمر میں جھوٹ بولنے کی عادت پڑ گئی تو بڑے ہو کر نہ خود خدا کے فضل حاصل کر سکو گے، نہ دنیا کو خدا کی طرف بلاسکو گے۔اس لئے میں سب بچوں کو بہت تاکید کرتا ہوں کہ ہمیشہ سچ بولیں اور سچائی کو بڑی مضبوطی کے ساتھ پکڑیں۔ٹوپی پہنا قومی شعار ہے بچو! اب آخر میں آپ سے ایک چھوٹی سی بات یہ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شاید میں نے گزشتہ سال بھی آپ سے یہ کہا تھا کہ مجالس میں ٹوپی پہنا کریں۔احمدی مجالس میں ٹوپی پہن کر بیٹھنا چاہیے