مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 198

مشعل راه جلد سوم 198 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ کہ گویا ساری دُنیا میں مرکز کا کوئی نہ کوئی آدمی ہر وقت موجود رہے۔مربیان ہیں۔اُنکی تعداد بھی تھوڑی ہے اور وہ ہر جگہ ہر ملک میں نہ تو موجود ہیں۔جہاں موجود بھی ہیں وہاں احمدیوں کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی زیادہ ہے کہ سب بچوں کی تربیت کر ہی نہیں سکتے۔اس لئے صرف لٹریچر کے ذریعہ اس طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ نئے آلات کے ذریعہ ہمیں تربیت کے پروگرام بنانے پڑیں گے اور میں بچوں سے یہ کہتا ہوں کہ اب آپ نے بڑے ہو کر ساری دُنیا کے بوجھ اٹھانے ہیں۔اس لیے ابھی سے اپنی فکر کر ہیں۔اس عمر میں اگر آپ کی صحیح تربیت ہو جائے تو پھر ہمیشہ کے لئے آپ کو ضمانت مل جائے گی۔آج جو اچھی عادتیں آپ اپنے اندر پیدا کرلیں گے وہ آپ کو ساری زندگی میں کام دیں گی۔آج کا بچہ کل کا احمدی نو جوان بن رہا ہو گا۔پرسوں کا احمدی بوڑھا بن رہا ہو گا۔اس لئے آج ہی اپنے اخلاق کی طرف توجہ کریں اپنی عادات کی طرف توجہ کریں۔اپنے حالات کی طرف توجہ کریں اور اُن کو درست کرنے کی کوشش کریں۔سچ بولیں اور جھوٹ سے نفرت کریں بچو ! آپ سے ایک چھوٹا سا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ آپ عہد کریں کہ ہمیشہ سچ بولیں گے اور گندی زبان استعمال نہیں کریں گے۔لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کتنے احمدی بچے ہیں جو اس عہد کو خاص طور پر پورا کر رہے ہیں۔(اس موقع پر بہت سے اطفال نے ہاتھ اُٹھا لئے تو حضور نے فرمایا ) ہاں ٹھیک ہے۔میں نے ابھی ہاتھ اُٹھانے کے لیے نہیں کہا تھا خدا کرے یہ سارے بچے اپنے عہد کو پورا کر رہے ہوں۔لیکن بعض دفعہ کوئی احمدی گالی دیتا ہے تو اس کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میں گالی دے رہا ہوں۔اس لئے اپنی طرف سے آپ نے سچائی سے بھی ہاتھ کھڑے کئے ہوں لیکن ابھی تک یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سارے بچے وہ ہیں جو بالکل گالی نہیں دیتے۔جن کو گالی کی عادت پڑ گئی ہو ان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ گالی دے رہے ہیں۔قادیان میں ایک بزرگ ہوتے تھے جن کو لوگ ماٹا صاحب کہتے تھے۔مانا صاحب مرحوم کے متعلق قصہ یہ مشہور ہے کہ ویسے تو وہ بڑے نیک آدمی تھے لیکن پیدائشی احمدی نہیں تھے۔اُن کو بچپن سے گندی گالیاں دینے کی عادت پڑی ہوئی تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نور اللہ مرقدہ کے پاس کسی نے شکایت کی کہ حضور آپ ان کو سمجھا ئیں۔آپ اس سے بڑا پیار کرتے ہیں۔گو یہ اچھے نو جوان ہیں (اُس زمانہ میں تو یہ نو جوان تھے ) لیکن گندی گالیوں کی عادت ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الاول نور اللہ مرقدہ نے اُن کو بلایا اور بڑے پیار سے سمجھایا کہ دیکھیں آپ بڑے اچھے آدمی ہیں، نیک ہیں، نمازی ہیں لیکن یہ جو آپ لوگوں کو