مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 185

185 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم تعالیٰ نے اس رویا میں دو خوشخبریاں عطا فرمائیں ایک یہ کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جن کنواریوں کو برکت بخشنے کی خوشخبری دی گئی ہے اس سفر میں انشاء اللہ ایسی کنواری قوموں سے ہمارا واسطہ پڑے گا۔اور پھر برص دکھائی گئی جو سیح سے تعلق رکھتی ہے کہ مسیح جس بیماری کو شفاء بخشے گا اس میں سے ایک برص ہے۔تو خدا تعالیٰ نے ان دونوں کو اکٹھا کر دیا ایک خاتون میں جو کنواری بھی ہیں اور جن کو برص بھی ہے اور ذاتی طور پر ان کے اندر نیکی پائی جاتی ہے۔تو یہ بھی خوشخبری تھی کہ یہ بیماری سطحی ہے گہری نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کاموں میں سے جو یہ اہم کام ہے کہ قوموں کو ( دین حق) سے روشناس کرائے گا اس کا وقت آ پہنچا ہے۔چنانچہ اس رؤیا کے بعد جب بھی قوم سے ہمارا تعارف ہوا تو معلوم یہ ہوا کہ نبی قوم بھی ان قوموں میں سے ایک قوم ہے جس کو خدا تعالیٰ نے بطور کنواری اور بیمار دکھایا۔صورت یہ ہے کہ جب میں نے جائزہ لیا تو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ فجینز (Fijians) میں مسیحیت تو پھیلی ہے لیکن ( دین حق ) نہیں پھیلا اور ( دین حق) کے نقطہ نگاہ سے نجی قوم بالکل کنواری بیٹھی ہوئی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ ایک لمبے عرصے سے مسلمان بھی وہاں آباد ہیں اور عیسائی بھی آباد ہیں لیکن عیسائیوں کو تو توفیق ملی کہ وہ بنی قوم کو اپنے مذہب میں داخل کریں چنانچہ عیسائیت کی طرف سے بڑے وسیع پیمانے پر ان میں کام کیا گیا ہے لیکن بڑے دکھ کا موقع ہے اور بڑی تکلیف کا مقام ہے کہ عیسائیوں کی اس کوشش کو دیکھنے کے بعد بھی مسلمانوں کے دل میں یہ گد گدی نہیں اٹھی۔ان کو یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا جاں بخش پیغام ان کو پہنچائیں کیونکہ اب مسیحیت میں زندہ کرنے کی کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔اب زندگی بخش ساری قو تیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کر دی گئی ہیں اسی لئے قرآن کریم فرماتا ہے اِستَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال آیت (۲۵) آج ایک ہی آواز ہے جو تمہیں زندہ کرنے کے لئے اپنی طرف بلا رہی ہے اور وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ہے۔پس مجھے بڑا دکھ پہنچا یہ دیکھ کر کہ جہاں زندگی کا چشمہ تھا اس وقت تو بلانے والوں نے نہیں بلایا اور جہاں موت پھوٹ رہی تھی اور شرک بہہ رہا تھا۔جہاں پانی کے اندر ایساز ہر ملا دیا گیا تھا کہ وہ پانی جو کسی زمانہ میں زندگی بخشتا تھا اب موت عطا کرنے والا پانی بن چکا تھا اس کی طرف لوگ بڑی کثرت کے ساتھ بلا رہے تھے اور نادان اس کی طرف جا بھی رہے تھے اور نقصان بھی اٹھا رہے تھے۔غرض اس رؤیا نے مجھے متوجہ کر دیا کہ خاص طور پر نجی قوم میں (دعوۃ الی اللہ ) کیلئے کوشش کی جائے اور