مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 146

مشعل راه جلد سوم 146 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی اذانوں کی آوازیں آرہی ہوں اور نمازوں کی طرف بلایا جا رہا ہو لیکن کارکنان سلسلہ یا مبران مجلس عاملہ یا سلسلہ کے دیگر کارکنان خاموشی سے سن رہے ہوں جیسے کسی اور کو بلایا جا رہا ہے۔بہرے کی اور کیا تعریف ہے۔صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقره: 19) کے روحانی معنی تو یہی ہیں کہ وہ سنتے ہیں اور نہیں سنتے۔دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے اور جو سننے اور دیکھنے کی طاقت سے محروم ہو جائے وہ ہر لحاظ سے بالکل بے معنی، جانور کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔نہ اس کو بولنے کی طاقت ہے، نہ سمجھنے کی طاقت ہے۔اس لئے عبادت کا حق ادا کرنا نہایت ہی اہم ہے۔اب میں مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے کارکنان سلسلہ سے کہتا ہوں کہ تین مہینے کے اندر اندر یہ فیصلہ کرلیں کہ سلسلہ کی ملازمت کرنی ہے یا نہیں۔جہاں تک ان کے اس فیصلے کا تعلق ہے اس میں وہ آزاد ہیں۔وہ جو فیصلہ بھی کریں ان کی مرضی ہوگی۔لیکن اگر وہ عبادت کی خاطر عبادت کریں نہ کہ ملازمت کی خاطر اور اللہ سے تعلق قائم کرنے کی خاطر نماز پڑھیں تو یہی سب سے اچھا سودا ہے اور سلسلے کو ایسے ہی کارکنوں کی ضرورت ہے۔لیکن اگر وہ کسی وجہ سے یہ فریضہ ادا نہیں کر سکتے تو ہمیں احسان کے ساتھ ان کو الگ کرنا ہوگا۔ان کی فہرستیں بن جانی چاہئیں اور ان سے معاملہ طے ہو جانا چاہیے۔جدائی میں احسان بہر حال ضروری ہے۔اس لئے ان کے حقوق ان کو ادا ہونے چاہئیں۔افہام و تفہیم کے ساتھ احسن رنگ میں ان کو کہا جائے کہ ہمیں مجبوری ہے کہ ہم تمہیں علیحدہ کر رہے ہیں۔لیکن اس علیحدگی میں تمہیں ثواب ہوگا اس وقت تم سلسلے پر بار بنے ہوئے ہو، پھر سلسلے کا بوجھ ہلکا کر دو گے۔پس محبت اور پیار سے سمجھائیں۔لیکن کوشش کریں کہ ایک بھی آدمی ضائع نہ ہو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سلسلے کو تو کارکن مل ہی جائیں گے، بلکہ بہتر ملیں گے۔لیکن وہ کارکن جنہوں نے ایک لمبا عرصہ سلسلے سے تعلق رکھا ہے ہم ان کو کیوں ضائع ہونے دیں۔ہمارا فرض ہے کہ پوری کوشش کریں اور ان کو بچائیں۔ایک ایک احمدی بنانے کے لئے ہم کتنی محنت کرتے ہیں۔تو جو پہلے سے موجود ہوں اور مرکز کے بہت قریب آئے ہوں اور جن کو سلسلہ کی خدمات کی توفیق ملی ہو ان کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔اس لئے اس معاملے میں بے اعتنائی نہیں کرنی۔ہر افسر کا فرض ہے کہ اگر کارکن اور ذرائع سے بات نہیں سنتا تو اپنے پاس بلائیں، محبت اور پیار کے ساتھ اس کو سمجھا ئیں اور جہاں تک ممکن ہو سلسلے کے ہر کارکن کو ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش کریں۔