مشعل راہ جلد سوم — Page 144
مشعل راه جلد سوم 144 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ کرنے والے ہی ادا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔دوسروں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ یہ کام کریں اور اگر وہ اس کو کریں بھی تو احسن رنگ میں نہیں کر سکتے۔اس لئے میں ساری انجمنوں کو دوبارہ اس امر کی طرف متوجہ کر رہا ہوں اور ساری جماعت کو سنانا چاہتا ہوں کیونکہ آج مشاورت کے لئے پاکستان کی اکثر جماعتوں کے نمائندے یہاں آئے ہوئے ہیں اسی طرح باہر کی دنیا سے بھی نمائندے پہنچے ہوئے ہیں۔آپ سب کے سامنے یہ بات سنانے میں حکمت یہ ہے کہ آپ بھی اپنی اپنی جگہ اسی طرح جواب دہ ہوں گے۔ہر جماعت کی مجلس عاملہ اور تنظیم خواہ وہ ذیلی انجمن کی ہو یا مرکزی انجمن کی ، بالکل اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح یا انجمنیں ذمہ دار ہیں۔بعض دفعہ عجیب و غریب واقعات سامنے آتے ہیں کہ ایک جگہ خدام الاحمدیہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہو رہا ہوتا ہے اور نماز با جماعت کھڑی ہو جاتی ہے، لیکن عاملہ کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اتنے سنجیدہ اور اہم کام میں مصروف ہیں کہ اب ہم نماز سے بالا ہو گئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا جب پانی کشتی کے اوپر آئے گا تو ہلاک کر دے گا۔کیونکہ کشتی میں یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ پانی کو سنبھال سکے۔اس لئے آپ نے عبادت کا غلام بننا ہے تو زندگی پانی ہے۔اگر آپ عبادت کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کریں گے تو لازما ہلاک ہوں گے۔اسی طرح بعض دفعہ امراء کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی میٹنگ میں بیٹھے ہوتے ہیں اور بعض اوقات سنجیدہ باتیں نہیں، بلکہ شغل کی باتیں چل رہی ہوتی ہیں اور ادھر نماز ہو رہی ہوتی ہے لیکن امراء کوئی پرواہ نہیں کرتے۔پس جن باتوں کا مرکز پابند ہے انہیں باتوں کی جماعتیں ہر جگہ پابند ہیں۔اس لئے آپ کو اس طرف توجہ دینی پڑے گی اور جماعت کے ذمہ دار دوستوں کو بہترین نمونے قائم کرنے پڑیں گے۔جہاں تک نماز با جماعت کا تعلق ہے کجا یہ کہ انسان گھر میں بیٹھا ہوا ہو یا دفتر میں ہو اور ( بیت الذکر ) تک نہ جائے اور گجا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ اور آپ کی تعلیم کہ ایک اندھا جو دور سے اذان کی آواز سنتا ہے اس کو بھی گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے کے بعد اجازت واپس لے لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہیں جماعت کے بغیر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔واقعہ یوں ہوا ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ مدینہ کی گلیوں میں ٹھوکریں لگتی ہیں۔مختلف حدیثوں میں مختلف تفاصیل ملتی ہیں۔کہیں آتا ہے کہ