مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 132

132 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کی یادوں میں بس رہے ہوں گے۔نماز کا اتنا شوق پایا جاتا تھا اور اس کی اتنی تربیت تھی کہ قادیان کے پاگل بھی نمازی رہتے تھے۔ایسے پاگل جو دنیا کی ہر ہوش گنوا دیتے تھے وہ نماز پڑھنے کے لئے اکیلے(بیوت الذکر) پہنچ جایا کرتے تھے۔نماز پڑھنے کی عادت ان کی زندگی میں ایسی رچ بس گئی تھی کہ وہ اس سے الگ ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ایسے ہی ایک راجہ اسلم صاحب ہوا کرتے تھے۔جب پاگل پن کی انتہاء ہوگئی تو بے چارے گھر سے باہر چلے گئے۔پاگل پن میں جو بھی اندر نہ ہو وہ باہر آجاتا ہے۔چونکہ ان پہ نیکی کا غلبہ تھا اس لئے ( آخری اطلاع کے مطابق ) ( دعوت الی اللہ ) کے جنون سے غالبا روس کی طرف چلے گئے تھے۔پھر انہیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان پر کیا گزری۔لیکن پاگل پن کے انتہاء کے وقت بھی پانچوں نمازوں میں ( بیت الذکر ) میں آیا کرتے تھے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے ( رفقاء) کو خدا تعالیٰ نے عبادت کے قیام کی جو توفیق بخشی تھی وہ اگلی نسل یعنی تابعین تک بھی بڑی شدت کے ساتھ جاری رہی۔اب ہم ایک ایسی جگہ پہنچے ہیں جہاں تابعین اور تبع تابعین کا جوڑ ہے اور اگر ہم نے اس وقت بشدت اپنی نمازوں کی حفاظت نہ کی تو خطرہ ہے کہ آگے بے نمازی پیدا ہونے نہ شروع ہو جائیں۔اس لئے ہمیں غیر معمولی جہاد کی روح کے ساتھ نماز کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ جہاد گھروں سے شروع ہوگا۔اب جلسہ سالانہ کے ایام قریب آرہے ہیں اور ربوہ کے گھروں کو خدا تعالیٰ ایک غیر معمولی حیثیت عطا کرنے والا ہے وہ گھر جو نمازی گھر ہیں ان کا فیض دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے گا۔دور دور سے آنے والے جو لوگ ان کے ہاں ٹھہریں گے وہ ان سے نیک نمونہ پکڑیں گے اور ان آنے والوں میں سے اگر کوئی بے نمازی بھی ہوں گے تو یہ گھر ان کو نمازی بنا دیں گے۔لیکن اس کے ساتھ ایک یہ خطرہ بھی ہے کہ اگر وہ گھر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ٹھہرتے ہیں، بے نمازی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ میران مہمانوں کی عادتیں بھی بگاڑ دیں اور ان کو بھی نمازوں سے غافل کر دیں۔اس طرح ان گھروں کی حالت بے نمازی بھی زمین کے کناروں تک پہنچ سکتی ہے۔یعنی ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں حاصل کر سکتے ہیں تو دوسری طرف ان رحمتوں سے محرومی کی بھی کوئی حد نہیں رہتی۔پس خصوصیت کے ساتھ اپنے گھروں کو اس طرح بھی سجائیں کہ وہ عبادت اور ذکر الہی سے معمور ہو جائیں۔جب مہمان آتے ہیں تو ان کے لئے گھروں کو سجایا جاتا اور انہیں زینت بخشی جاتی ہے۔میں نے ایک خطبہ جمعہ میں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ربوہ کو ایک غریب دلہن کی طرح سجانا چاہیے۔لیکن مومن کی اصل سجاوٹ تو تقویٰ کی سجاوٹ ہے، نماز کی سجاوٹ ہے۔خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ