مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 9

ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ملتا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں ابھی میں اس فکر میں ہی تھا کہ اچانک ان کو ایک طرف سے کہنی پڑی۔انہوں نے مڑ کر دیکھا ان میں سے ایک بچہ یہ پوچھ رہا تھا کہ چا! وہ ابو جہل کون ہے جو میرے آقا محمد مصطفیٰ کو گالیاں دیتا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ اس کی آواز میں ایسی بیقراری اور بے چینی تھی کہ گو یا غم کا مارا ہواوہ معصوم دل صرف اسی دُکھ میں مبتلا تھا کہ وہ ظالم ہے کون جو محد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں دیتا ہے؟ وہ بیان کرتے ہیں میں نے تعجب سے اس کو دیکھا کہ اتنے میں بائیں طرف سے میرے کہنی پڑی اور دوسرے بچے نے بھی یہی سوال کیا کہ چا! وہ ابو جہل کون ہے جو ہمارے آقا محمد مصطفی کو گالیاں دیتا ہے؟ ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی۔صف بندی کی جارہی تھی۔انہوں نے میدان پر نظر ڈالی تو ابوجہل نظر آ گیا اس کی طرف انگلی اٹھائی اور کہا وہ ہے ، وہ ظالم جو محمد مصطفیٰ کو گالیاں دیتا ہے۔وہ کہتے ہیں جس طرح عقاب پرندہ پر جھپٹتا ہے اس طرح وہ دونوں بچے بیقرار ہو کر دوڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے ابو جہل کو جالیا اور وار پر وار کر کے اس کو زخمی کر دیا۔میں نہیں جانتا کہ وہ بیچ کر واپس آئے یا نہیں۔زخمی ہو کر زندہ بچے یا شہید ہو گئے لیکن تاریخ اسلام گواہ ہے کہ وہ دونوں بچے وہ پہلے مجاہد تھے جنہوں نے دشمن پر تلوار اٹھائی۔یہ تھے حضرت محمد مصطفی کے ساتھی۔اور ان سے خدا نے جو سلوک فرمایا وہ سب دنیا پر عیاں ہے۔تاریخ دان اسے دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ یہ واقعہ ہوا تو کیسے ہوا۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ واقعہ ان عبادت گزار بندوں کے ذریعہ رونما ہوا جن میں بوڑھے بھی تھے اور معصوم بھی۔جوان بھی تھے اور بچے بھی۔وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار ہو گئے لیکن وہ عبادت گزار دل رکھتے تھے اور دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جو عبادت گزار دل ہوں۔اللہ تعالیٰ انہیں ضائع فرمادے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے بھی یہی پیغام تھا۔خدا نے فرمایا الیسَ اللَّهُ بِكَافٍ عبده کہ اے میرے بندے! آج تو تو ہے دنیا میں میری عبادت کا خلاصہ۔تجھے وہم کیسے پیدا ہوا کہ میں تجھے مٹنے دوں گا۔میں نے اپنے عبادت گزار بندوں سے تو کبھی بے وفائی نہیں کی۔پس جرمنی کے احباب جماعت کے لئے بھی میرا یہی پیغام ہے کہ آپ اَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کا فیض اٹھاتے رہے ہیں، اب بھی اٹھا رہے ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ اٹھاتے رہیں گے لیکن اس کے ساتھ عبادت کا بھی تو حق ادا کیجئے کیونکہ اس الیس اللہ کی روح عبادت میں مخفی ہے الیسَ اللهُ بِكَافٍ عبدہ میں ایک پیغام ہے کہ جب تک دنیا میں خدا کی عبادت قائم رہے گی اور جب تک اللہ سے محبت کرنے والے دل دھڑکتے رہیں گے اللہ کے فضلوں کی ہمیشہ کے لئے ضمانت ہے اور اس ضمانت کو دنیا میں کوئی