مشعل راہ جلد سوم — Page 120
120 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم امتحان کے ڈگری عطا کر دی جائے اور اگر ایسا نہ کیا تو تم فیل شمار ہو گے اور کالج سے نکال دیئے جاؤ گے۔اس نے کہا مجھے یہ چیلنج منظور ہے۔یہ کہا اور اٹھ کر باہر نکل گیا۔جانے سے پہلے اس نے کہا کہ ایک شرط میری بھی ہے آپ میرے گائیڈ ہیں۔مجھے گائیڈ لائن ضرور دیں۔اگر میں کہیں پھنستا ہوں تو بیشک تھوڑا وقت ہے لیکن میں آپ سے پوچھا کروں گا کہ فلاں مضمون کہاں ملتا ہے، مجھے بتائیں۔اس نے کہا یہ تو میں بتا دوں گا لیکن یہ کہ کس کس قسم کے پرزے کہاں کہاں سے مل سکتے ہیں ، اس میں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کروں گا۔خیر، یہ چیلنج قبول ہو گیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔اس نے تحقیق شروع کی۔آخر وہ دن آپہنچا جب اس نے اپنا Thesis یعنی تحقیقی مقالہ پیش کرنا تھا۔صرف ایک چیز اس کی اٹکی رہ گئی۔ایک خاص قسم کا ایسا پرزہ تھا جو الیکٹرونک تھا اور Valve کا کام کرتا تھا۔خاص کرنٹ کو Cutout ( منقطع ) کر کے کسی اور کرنٹ کو (جو بھی کرنٹ تھی ) Pass کرنے کی اجازت دیتا تھا۔اس بیچارے کو یہ پرزہ نہیں مل رہا تھا اور شرط یہ تھی کہ خا کہ ہر طرح سے مکمل ہو۔ایک جگہ بھی اٹک گئے تو سمجھا جائیگا کہ ایٹم بم نہیں بنا ساری کوششیں بریکار گئیں۔اس بیچارے کو سوچتے سوچتے اچانک دماغ میں آگیا کہ Bell ٹیلیفون کی مشہور کمپنی ہے ان کے ہاں اس قسم کی کوئی چیز ضرور ہونی چاہیے۔اس نے اُسی وقت Bell والوں کو فون کیا کہ اس قسم کا ایک پرزہ ہے جس کی یہ یہ خاصیتیں ہیں۔اور وہ آپ کے پاس Available یعنی دستیاب ہے۔اس نے کہا بہت اچھا! کیا نمبر ہے؟ اس کا نمبر اپنے Thesis میں نوٹ کیا اور ہانپتا کانپتا، سانس چڑھا ہوا وقت پر جا کر اس نے اپنا Thesis دے دیا۔واپس آکے اس بیچارے کو خیال آیا کہ میں نے اپنی طرف سے تو ایٹم بم بنا دیا ہے پتہ نہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے جب انعامات کی تقسیم کا وقت آیا اور ڈگریاں تقسیم ہوئی تھیں تو اس کی تلاش شروع ہوئی۔یونیورسٹی کے پروفیسرز کا پورا بورڈ بیٹھا ہوا تھا۔اس کو بلایا گیا۔انہوں نے اس کو کہا کہ ہم تمہیں غیر معمولی اعزازی ڈگری عطا کرنا چاہتے ہیں اور امریکن قوم کی طرف سے تمہارا شکر یہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ہم اس احساس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یہ چیز ہو ہی نہیں سکتی اس لئے بہت سے Documents جو Secret ہو جانے چاہیں تھے ان کو ہم نے لائبریریوں میں کھلا رکھا ہوا تھا۔اب تمہارے اس مقالہ سے ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ یہ اتنی خطرناک چیز ہے کہ اب ہم نے ان Documents کومہر بند (Seal) کروا دیا ہے۔اور اب یہ پبلک کے استعمال کے لئے نہیں ہوں گے۔تو بی ایس سی کا ایک معمولی طالب علم ایٹم بم کا پورا اور مکمل Blue Print تیار کر لیتا ہے۔اس لئے کہ اس کو پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا بڑا دماغ دیا ہے کہ اگر میں اس کو استعمال کروں تو میرے لئے ترقی کے