مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 92

دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۸ء 92 خدام الاحمدیہ کا پندرہویں تربیتی کلاس کے اختتام پر حضور پر نور کا طلبہ سے خطاب بتاریخ ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء بمقام ایوان محمو در بوہ۔یہ خطاب غیر مطبوعہ ہے۔تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تنزل کی تصویر تو ترقی میں بدل گئی ہے۔الحمد للہ لیکن سو کی تعداد جو مقررکی گئی تھی اس کے مطابق مجلس نے اس کلاس میں حصہ نہیں لیا۔یہ مسیح ہے۔کہ زمیندار جماعتیں آج کل بہت مشغول ہیں اور ان کے نوجوانوں کے لئے کھیل کود کا زمانہ ہے۔اور اس لئے ان کا ہر موسم میں کلاس کے لئے آنا نسبتا مشکل ہے۔اگر ناممکن ہے تو اس کلاس کو آگے پیچھے کیا جانا چاہیئے۔اس کی تعداد بھی کم ہے۔ضرورت تو یہ ہے کہ تمام جماعتوں کے نمائندے آئیں لیکن بعض حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ تمام جماعتوں کے نمائندے نہیں آسکتے۔اس لئے کم از کم ۹۰ فیصد جماعت کے نمائندے آنے چاہئیں۔اس وقت سو ۱۰۰ کی تعداد اس لئے مقرر کی گئی تھی کہ زیادہ بوجھ کارکنوں ظمین پر نہ پڑے اور اس میں کم از کم کامیاب ہو جائیں۔صرف یہ بات ہماری لئے خوشی کا موجب نہیں کہ گذشتہ سال یا اس سے پہلے سال کے مقابلہ پر تعداد زیادہ ہو۔ہمارے سامنے ایک ضرورت ہے۔اس ضرورت کو پورا کیا جانا ہے۔آئندہ سال کے لئے یہ خیال رکھا جائے کہ سوائے شہری جماعتوں اور ایسی دیہاتی جماعتوں سے یہاں طالب علم آنے چاہئیں۔جو امسال اس کلاس میں شامل نہیں ہوئے۔اور سو کی تعداد ان کی نہیں ہے۔یعنی بڑے شہر اور نئی دیہاتی جماعتیں۔لیکن اگر وہ دیہاتی جماعتیں جنہوں نے اس سال بھی طلبہ بھیجے ہیں۔وہ آئندہ بھی بھیجنا چاہیں تو ان کے راستہ میں روک کوئی نہیں۔لیکن سو کی تعدا دنئی دیہاتی جماعتوں اور شہروں کی طرف سے آنے والے طلبہ سے پوری ہونی چاہیئے۔میں نے اس کلاس کے افتتاح کے موقع پر بھی اپنے بچوں کو اس طرف متوجہ کیا تھا۔کہ جب تک ہم دنیا کے لئے عملی زندگی میں اسلام کا نمونہ قائم نہ کریں اس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔قرآن کریم نے کسی جگہ بھی زبان کے دعووں پر جنتوں کا وعدہ نہیں دیا۔بلکہ بڑی وضاحت سے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے۔کہ ایسے دعاوی اور ایسی باتیں جن کے پیچھے عمل اور حقیقت نہ ہو وہ بے معنی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکار دیئے جاتے ہیں۔قرآن کریم نے ایک تو ہمیں یہ بشارت دی کہ کم از کم جو تمہارے اعمال اخلاص نیت کے ساتھ کیے جائیں گے ضائع نہیں ہو نگے۔مومن اس مقام تک پہنچتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اپنی محبت کو پیدا کرتا اور اس حقیقت سے وہ آگاہ ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی اس کی راہ میں گزارنی ہے، تو باوجود اس کے کہ اپنی طرف