مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 90
فرموده ۱۹۶۸ء 90 د و مشعل راه جلد دوم دئے ہیں ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے ہم مستغنی ہو سکیں۔ہر حکم کے نیچے ہم نے اپنی گردن کو رکھنا ہے اور ہر حکم کے بجالانے کیلئے ہم نے پوری سعی کرنی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی سرسبز جنتیں تمہارے نصیب میں رہیں۔اللہ تعالی اسلام کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق عطا کرے۔اور آپ کیلئے ایسے سامان پیدا کرے کہ آپ سیکھیں بھی بہت اور عمل بھی بہت کریں اور اپ کو اپنے فضل سے وہ اسلام کا مقام عطا کرے۔آپ کی روح وہ عرفان حاصل کرے جو اس حقیقت پر قائم ہو کہ یہ ورلی زندگی چنددنوں کی زندگی ہے بچپن میں بھی بچے مرجاتے ہیں۔آپ میں سے بہت سے ہیں جن کے ساتھی یا جن کے گھروں میں ان کے بہن بھائیوں میں سے کچھ بچپن میں فوت ہو گئے۔اس زندگی کا کیا اعتبار ! بچپن میں اگر مر گئے تب بھی یہاں سے چلے گئے۔اگر کچھ دیر زندہ رہے تو نو جوانی میں بھی بہت سے مرجاتے ہیں پھر اگر جوانی میں بھی زندگی کے دن گزارے تو کسی نے یہاں ہمیشہ کیلئے نہیں رہنا جو زندگی انسان کی گزر جاتی ہے پیچھے مڑ کر آپ اس کی طرف دیکھیں تو وہ چند منٹ کی یا چند گھنٹوں کی زندگی محسوس ہوتی ہے۔ہمارا احساس یہ نہیں ہوتا کہ ہم نے پندہ سال یا بیس سال کی زندگی گزاری یا تمہیں یا پینتیس سال کی زندگی گزاری ہے یا ساٹھ سال یا ستر سال کی زندگی گزاری ہے۔بلکہ جوں جوں ہماری زندگی کے دن بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ہمارا یہ احساس اور پختہ اور زندہ ہوتا چلا جاتا ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے میری زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اس زندگی میں اگر ہم خدا کے کہنے پر اس کی رضا کے حصول کیلئے اعمال صالحہ بجالائیں اور اس کے نتیجہ میں اپنے لئے جنت میں ایک مقام اور ٹھکانہ بنالیں تو وہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ ہمیں ساری دنیا کے عیش نصیب ہوں۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ ہمارے پاس ساری دنیا کی دولت ہو اور اپنی مرضی کے مطابق ہم اس کو خرچ کریں۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ ساری دنیا کی عزتیں ہمیں عطا ہوں۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ دنیا میں سیاسی طور پر ہم صاحب اقتدار سمجھے جائیں کیونکہ یہ دس پندرہ سال یا تیں پینتیس سال یا ساٹھ ستر سال گزارنے کے بعد ہم نے ایک اور دنیا میں داخل ہونا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔دنیا کے لاکھوں کروڑوں خدا کے بزرگ بندوں نے اس حقیقت کو پایا اور مشاہدہ کیا اور خدا تعالیٰ کی اس جنت کے وہ عینی شاہد ہیں جو مرنے کے بعد انسان کو دی جاتی ہے اور اس لئے ہماری یہ کوشش ہونی چاہئیے کہ ہم اس دنیا کے عارضی اور وقتی آراموں کو قربان کر کے ابدی سرور اور ابدی راحتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اگر آج احمدی جماعت کے نوجوان اور بڑے عملی طور پر اسلام کے مطابق اور خدا میں ہو کر اپنی زندگیاں گزارنے والے ہو جا ئیں تو عنقریب ساری دنیا میں انقلاب عظیم بپا ہو جائے۔آج اسلام کی طرف جو مخالف اور منکر متوجہ نہیں ہورہے تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے وہ ہم سے پوچھتے ہیں۔مجھ سے بھی یورپ کے دورے میں بعض نے یہ سوال کیا کہ وہ نمونہ کہاں ہے جو آپ چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا میں قائم کرے صحیح ہے کہ ہم تھوڑے ہیں۔صحیح ہے کہ اس ملک میں بھی ہماری تعداد اتنی کم ہے کہ بظاہر ہمارا کوئی اثر نہیں لیکن ہم دنیا کے اثر اور دنیا کی عزت اور دنیا کے اقتدار کے پرستار نہیں۔ہمیں تو اپنے خدا کی رضا چاہئیے۔