مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 83

83 فرمودہ ۱۹۶۷ء د مشعل راه جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار اس کثرت سے اس چیز پر زور دیا ہے کہ ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔مذہب کوئی فلسفہ نہیں مذہب کوئی کلب نہیں۔جہاں چند آدمی جائیں، کہیں ماریں اور واپس آجائیں۔یا کوئی مجلس مذاکرہ قائم کرنے کی مجلس نہیں ہے۔مذہب تو زندگی میں ایک انقلاب عظیم پیدا کرنے کا نام ہے۔دنیا میں انبیاء اس لئے مبعوث کئے جاتے ہیں کہ وہ اپنا نمونہ دنیا کے سامنے رکھ کر اس اسوہ پر ہزاروں زندگیوں کو ڈھال دیں (اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ) اور پھر وہ بطور نمونہ کے پیش ہوں۔قرآن کریم نے تعلیمی لحاظ سے دنیا پر اتنا احسان کیا ہے کہ دنیا اس احسان کو ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔کسی کو آپ لے آئیں میں اس کو قائل کروں گا کہ قرآن کریم نے تم پر احسان کیا ہے لیکن اگر ہم علی احسان کے مقابلہ میں عملی حسان دنیا پر نہ کریں و وہ لوگ کہیں گے اس احسان کا کیا فائدہ۔قرآن کریم کا احسان۔۔۔۔انسانیت پر ساؤتھ ہال فیلڈ لندن میں مجھے اچانک جماعت والوں نے بلایا اور انہوں نے وہاں ایک ہال میں میرے ایک مختصر لیکچر کا انتظام کیا تھا جس کی اطلاع مجھے انہوں نے اس دن دی تھی۔بہت سے غیر مسلم بھی وہاں تھے عیسائی بھی اور دوسرے مذاہب کے بہت سے لوگ بھی۔میں نے ان کو کہا۔دیکھو تم گو مسلمان نہیں اور تمہیں قرآن کریم کی طرف توجہ نہیں لیکن اس کے باوجود قرآن کریم تم پر احسان کرتا چلا جارہا ہے۔کیونکہ قرآن کریم نے ذمہ لیا ہے تمہاری عزت کا، تمہاری حفاظت کا، تمہاری جان کی حفاظت کا، تمہارے جذبات کی حفاظت کا تمہارے مال کی حفاظت کا تمہاری صحت کی حفاظت کا تمہارے بچوں کو کھانا کھلانے کی حفاظت کا۔غرض ہر قسم کا احسان تم پر کر دیا ہے۔میں نے انہیں کہا کہ قرآن کریم نے صرف ایک مسلمان کی جان کی حفاظت کا ہی ذمہ نہیں لیا کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ ایک مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے بلکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا حرام ہے خواہ وہ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والا دہر یہ ہے یا مشرک ہے یا خدا کے ساتھ بہت سارے خداؤں کو مانتا ہے۔پھر بھی قرآن کریم کہتا ہے کہ اس کو قل نہیں کرنا۔اس کی جان نہیں لینی۔غرض وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے اس کے گرد بھی خدا تعالیٰ کے فرشتے (مسلمان) کھڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں اس کی جان کی حفاظت ہم نے کرنی ہے۔قرآن کریم نے اتنا صبر بتایا ہے، اتنا حمل اور ٹالرنس (Tolerance) بتائی کہ کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اب دیکھو نڈ ہی لحاظ سے ایک مسلمان کیلئے سب سے مقدس جگہ مسجد ہے۔میں نے جب مسجد نصرت جہاں کوپن ہیگن میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا أَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدًا قرآن کریم نے تعلیم دی ہے کہ مسجد کا مالک حقیقی چونکہ اللہ تعالیٰ ہے ہم انسان تو اس کے کسٹوڈین۔نگران اور محافظ کے ہیں اور چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اس کیلئے اسلام نے اس اللہ کے گھر کے دروازے ہر اس موحد اور ایک خدا کی پرستش کرنے والے کیلئے کھول دیئے ہیں جو نیک نیتی سے آئے۔اس کے دل میں کوئی شرارت نہ ہو۔وہ یہاں آئے اور عبادت کرے